زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 369
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 369 جلد اول ان کی نگاہ ہمیشہ ولایت کے اعلیٰ طبقہ پر پڑتی ہے ادنیٰ طبقہ یا غرباء کے طبقہ پر وہ نظر نہیں ڈالتے۔اس میں شبہ نہیں کہ یورپ کے تعلیم یافتہ طبقہ کی حالت یہاں کے تعلیم یافتہ طبقہ کی نسبت بہتر ہے مگر دوسرے طبقوں میں میں نے خود ایسے لڑکے لڑکیاں دیکھے ہیں جن کے بال بکھرے ہوئے اور چہرے میلے کچیلے تھے۔ایسے بچے میں نے اٹلی میں بھی دیکھے اور انگلینڈ میں بھی۔دراصل صفائی اور تربیت میں بہت کچھ دخل تعلیم اور مالی حالت کا بھی ہوتا ہے۔ایک دوست جو مخلص تھے جب جرمنی گئے تو دہر یہ ہو کر واپس آئے۔چونکہ ان کے کے دیرینہ تعلقات تھے اور دل میں محبت تھی ملنے کے لئے آگئے۔انہوں نے چھوٹتے ہی مجھ سے کہا یہ بھی کوئی ملک ہے جس میں ہم رہتے ہیں اور یہاں کے لوگ بھی کوئی آدمی کہلانے کے مستحق ہیں۔وہاں بڑی صفائی ہوتی ہے۔لوگ بڑے مہذب ہیں۔پھر بڑی دلیری سے کہنے لگے (اُس وقت ہم مسجد کے پاس کے کمرہ میں بیٹھے تھے ) بے ادبی معاف! اسی کمرہ کی حالت دیکھ لیجئے۔یہ بھی کوئی انسانوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔میں نے یہ خیال کر کے کہ گر یہ کشتن روز اول کہا ” بے ادبی معاف“ کہنے کی ضرورت نہیں۔ذرا اس مالی حالت کا بھی اندازہ لگا لیجئے جس میں یہاں اور وہاں کے لوگ رہتے ہیں اور پھر یہ بھی دیکھ لیجئے کہ اس ملک کا جہاں دن میں تین تین دفعہ آندھیاں آتی ہیں اُس ملک سے کیا مقابلہ ہے جہاں ہر موسم میں سردی ہوتی ہے اور کثرت سے بارشیں ہوتی رہتی ہیں۔وہاں کے لوگ صدیوں سے ہم ایشیاؤں کو لوٹ لوٹ کر کھا رہے اور مال جمع کر رہے ہیں اس لئے ان کے ساتھ یہاں کے لوگوں کا مقابلہ کرنا غلطی ہے۔یہاں گرمی میں مکان کی حالت اور ہوتی ہے اور سردی کے موسم میں اور۔یہاں گرمی کے لئے اور لباس کی ضرورت ہوتی ہے اور سردی کے موسم میں اور کی۔پھر یہاں کے لوگوں کی مالی حالت بہت کمزور ہے ان باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ہاں تعلیم و تربیت کا بھی نقص ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ہمارے ملک میں بچہ سے پیار کرنے کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسے نکما بنا دیا جائے۔مگر ان ملکوں میں پیار کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ کارآمد بنایا جائے۔یہ