زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 360
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 360 جلد اول معلومات بڑھاتا رہے یا نئے واقعات فراہم کرتا رہے یا طریق بیان میں ایسی ایجاد کرے کہ لوگوں کے لئے اس خاص مسئلہ کے سمجھنے میں آسانیاں پیدا ہو جائیں۔دنیا میں دونوں قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔بعض تو ایسے ہوتے ہیں جو نئے مسائل تلاش کرتے ہیں اور بعض اس امر کی تحقیق میں لگے رہتے ہیں کہ کس طرح انسانی دماغ فلاں مسئلہ کے قریب پہنچ سکتے ہیں اور طرز بیان میں ایسی جدت پیدا کرتے ہیں کہ لوگ اسے آسانی سے سمجھ سکیں۔یہ دونوں باتیں مشکل ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وفات مسیح ثابت کرنے کے لئے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی 1 کی آیت پر بہت زور دیا کرتے تھے۔اور اسے پیش کرتے ہوئے ایک خاص بات مدنظر رکھتے تھے جس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے ننانوے فیصدی احمدی اسے پیش کرتے وقت اس کی طاقت کو ضائع کر دیتے ہیں۔آپ فرماتے اس آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عیسائی حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات سے پہلے نہیں بگڑے۔چاہے اس کے معنے قیامت سے پہلے فوت ہونا کر دیا قیامت کے بعد فوت ہونا۔آپ زور اسی بات پر دیتے کہ ان کی زندگی میں عیسائی نہیں بگڑے۔آپ نے خود اسے قیامت سے پہلے بھی لگایا ہے اور بعد بھی۔مگر آپ زور اسی بات پر دیتے تھے کہ اسے کہیں چسپاں کرو یہ معنے ثابت ہیں کہ ان کی زندگی میں عیسائی نہیں بگڑے۔اور اگر آج عیسائی بگڑ چکے ہیں تو یقین مانا پڑے گا کہ آج سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔مگر اب لوگ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ یہ قیامت کا ذکر ہے اور اس طرح اس دلیل کی طاقت کو کمزور کر دیتے ہیں۔تو طریق بیان سے بھی بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔اگر کوئی نیا طریق نکالے تو وہ بھی نفع رساں ہے۔اور اگر کوئی نئی بات نکالے تو وہ بھی نفع رساں ہوتی ہے۔پس تھیسس لکھنے والے کو ان دونوں میں سے ایک طریق ضرور اختیار کرنا پڑے گا۔اگر کسی نے ایک مشکل بات کو اپنی کوشش سے عوام الناس کے لئے سمجھنا آسان کر دیا ہے تو ممتحن یہ سمجھ کر کہ اس نے دنیا کی خدمت کی ہے اس کو ڈگری کا مستحق قرار دے دے گا۔اور اگر وہ کوئی نئی معلومات مہیا کرتا ہے اور دنیا کے سامنے ایک نئی بات پیش کرتا ہے تو