زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 359

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 359 جلد اول جامعہ احمدیہ کے طلباء کو تحقیقی مضامین لکھنے کی تلقین 25 /اکتوبر 1928 ء جامعہ احمدیہ کی طرف سے حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب ایم۔اے مبلغ انگلستان کے اعزاز میں ٹی پارٹی دی گئی۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی بھی اس تقریب میں رونق افروز ہوئے۔اس موقع پر حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد جو خطاب فرمایا وہ درج ذیل ہے۔اگر چہ اس وقت میرا انشاء نہیں تھا کہ کچھ بولوں کیونکہ میرے گھٹنے پر زخم ہے جس کی وجہ سے میں کھڑا نہیں ہوسکتا لیکن درد صاحب نے اس وقت جو بات بیان کی ہے وہ اس قدر لطیف اور دلچسپ ہے کہ میں مجبور ہو گیا ہوں کہ کچھ کہوں۔جس خیال کو انہوں نے پیش کیا ہے وہ اگر چہ نیا تو نہیں یورپ میں عام ہے اور یہاں بھی ایک بار پہلے پیدا ہو چکا ہے اور مبلغین میں پیدا ہوا تھا لیکن اُس وقت یہ خیال کی حد تک ہی رہا۔شاید پبلک میں بھی نہیں آیا۔اب اس تقریب پر ان کے ذہن میں اس کا نام اس کی قیمت کو بڑھا دیتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ تھیسس (Thesis) ( تحقیقی مضمون ) کا لکھنا طالب علم کے ذہن کو آئندہ صحیح راستہ پر لگانے کا موجب ہوتا ہے۔ہر چیز کی دو قیمتیں ہوتی ہیں۔ایک اپنے وجود کے لحاظ سے اور دوسری اس لحاظ سے کہ آئندہ واقعات پر وہ کیا اثر ڈالتی ہیں۔اور تھیسس کی قیمت ان دونوں لحاظ سے اعلیٰ ہوتی ہے۔جب کسی طالب علم کی ڈگری کی بنیاد تھیسس پر رکھی جائے جیسا کہ یورپ میں ہے۔وہاں اگر طالب علم کا لکھا ہوا تھیسس قبول ہو جائے تو اسے ڈگری مل جاتی ہے۔اور اگر نہ ہو تو نہیں ملتی۔تو ایسی صورت میں طالب علم مجبور ہوتا ہے کہ جس وقت سے وہ تعلیم شروع کرتا ہے اُس وقت سے اس خاص مضمون کے متعلق