زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 349
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 349 جلد اول دائرہ کو تنگ کیا جا سکتا ہے۔بچوں کو کہہ دیا جائے کہ تمہیں فلاں بچوں سے ہی کھیل کود کی اجازت ہے۔ان سے خواہ لڑو، جھگڑ ومگر ان کے سوا کسی سے تمہیں ملنے کی اجازت نہیں۔اگر یہ نگرانی کی جائے تو بہت مفید ہو سکتا ہے۔اور اس کی زیادہ ضرورت صرف ایک نسل تک رہے گی اس کے بعد خود بخود بچوں کی اصلاح ہو جائے گی۔دوسری بہترین Hobby نماز ہے۔اگر ماں باپ اس امر کا لحاظ رکھیں کہ بچہ نماز میں ضرور حاضر ہو تو اس سے بھی بہت کچھ اصلاح ہو سکتی ہے۔ہم نے تو جو کچھ سیکھا مسجدوں میں ہی سیکھا ہے۔مسجدوں میں جاتے تھے تو ہمارے کان میں یہ آواز میں پڑتی تھیں کہ اسلام پر یہ مصیبت ہے اور اس وجہ سے سب لوگ ملول نظر آتے تھے۔ہم بھی اس نظارہ سے متاثر ہوتے تھے اور اس کا ایک نشان ہمارے دل پر نقش ہو جاتا تھا اور دل میں خواہش پیدا ہوتی تھی کہ ہم بھی اسلام کی کوئی خدمت کریں اور اس مصیبت سے اسے نجات دلانے کی کوشش کریں۔پھر کبھی دیکھتے تھے لوگ ہنس رہے ہیں اور خوش ہو رہے ہیں کیونکہ اسلام کی فتح ہوئی ہے یا کوئی معجزہ یا نشان ظاہر ہوا ہے۔اس پر ہمارے دل میں بھی یہ احساس ہوتا تھا کہ یہ بھی کوئی لذت اٹھانے والی چیز ہے۔تو بچوں کو اپنے ساتھ مساجد میں لانا بہت ضروری ہے۔وہ وہاں آ کر بے شک کھیلیں، کو دیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ صوفی مزاج اس پر برا بھی منائیں گے لیکن اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔لیکن بچہ سے بھی میری مراد پیشاب کرنے والا بچہ نہیں بلکہ وہ بچہ ہے جس میں تمیز کا مادہ پیدا ہو چکا ہو اور وہ یہ سمجھ سکے کہ نماز میں شامل ہونا چاہئے۔ایسے ہی بچوں کو ساتھ لانا چاہئے اس طرح بھی ان کا بہت سا وقت گزر جائے گا۔یہ چیزیں ہیں جن سے بچوں کی عمدہ تربیت ہو سکتی ہے۔نماز بھی ان کے لئے Hobby ہی ہے کیونکہ اس سے انہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔وہ بے شک اپنے ہمجولیوں سے باتیں کریں مگر نماز شروع ہو تو اس میں شامل ہو جائیں۔اسی لئے شریعت کا حکم ہے کہ بچوں کو پیچھے بٹھا ؤ3 وہ بے شک آپس میں باتیں کریں اور کھیلیں لیکن نماز میں ضرور شامل ہوں اس سے لازماً ان کے قلوب پر اثر پڑے گا۔جب تک