زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 348
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 348 جلد اول اسے علیحدہ کیا جائے تا اس میں اپنی ذات پر اعتماد کرنے کی اہلیت پیدا ہو۔اور اس میں وہ مادہ پیدا ہو جس کے تحت انسان سختی نرمی برداشت کر سکتا ہے۔یہ مادہ بغیر جدا کرنے کے پیدا نہیں ہو سکتا۔بڑی نگرانی کی ضرورت یہ ہے کہ ہم اس کے غائب اوقات میں اس کی نگرانی کریں۔درد صاحب نے اس کے لئے ایک طریق بتایا ہے کہ انہیں کوئی ایسا سودا لگا دیا جائے جس میں وہ مشغول رہ سکیں۔کیونکہ جب کوئی شغل نہ ہو تو بچے آوارہ ہو جاتے ہیں ہمارے ملک میں اسی وجہ سے نوے فیصدی لوگ آوارہ ہوتے ہیں۔یہ میرا تجربہ ہے اور آوارگی یہی ہے کہ فضول باتوں میں وقت ضائع کیا جائے۔ہماری قوم میں یہ ایک رواج ہے کہ بے فائدہ باتوں میں وقت ضائع کیا جاتا ہے۔گو یا وقت کا قتل کرنا ہماری گھٹی میں ہے۔گھنٹوں بیٹھے ادھر ادھر کی فضول باتیں کرتے رہتے ہیں اس لئے ضرورت ہے کہ بچوں کی تربیت ایسے طریق پر کی جائے کہ وہ فارغ رہتے ہوئے بھی مشغول رہیں۔یورپ میں یہ بات نہیں۔وہاں بچوں کو ایسی عادات ڈالی جاتی ہیں کہ وہ فارغ رہتے ہوئے بھی مشغول رہتے ہیں۔انہیں تیتریوں کے پکڑنے کا شوق لگا دیا جاتا ہے جن میں سے اکثر بہت خوبصورت ہوتی ہیں اور بچے چھینکے لئے انہیں پکڑتے پھرتے ہیں۔اس طرح وہ دوڑنے کو دنے میں مشغول رہتے ہیں۔یہ عادت نہایت مفید ہے اور اس کا بچوں کی میں پیدا کرنا اچھا ہے۔درد صاحب نے فوٹو لینے کا بھی ذکر کیا ہے مگر میں اس کی تائید نہیں کرتا۔کیونکہ اس میں خرچ ہوتا ہے اور ہمارا ملک بہت غریب ہے۔ہاں ڈرائینگ اور پینٹنگ میں کوئی حرج نہیں۔کیونکہ اس میں چند پیسے ہی خرچ ہوتے ہیں۔سٹیمپ جمع کرنا بھی اچھا ہے۔غرضیکہ کوئی Hobby ہونی چاہئے جس میں بچے مشغول رہیں۔لیکن اس میں ایک اور بات بھی قابل غور ہے۔ان باتوں کے لئے بھی ساتھیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اور اس میں یہ مشکل ہے کہ اچھے ساتھیوں کا ملنا مشکل ہوتا ہے۔کیونکہ یہاں اکثر بچے خراب ہوتے ہیں اس لئے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ ماں باپ بچوں کے لئے دوست خود تجویز کریں اور اگر توجہ کی جائے تو یہ کوئی مشکل امر نہیں ہے۔اس طرح دوستوں کے