زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 347
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 347 جلد اول اساتذہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہر بچہ ایک کھڑکی ہے جس سے تم اپنے سے خلوص رکھنے والے دل ملک میں مہیا کر سکتے ہو۔اس موقع کو ضائع کر کے اگر آپ بجائے محبت کے نفرت کے جذبات پیدا کرنے کا موجب ہوں تو یہ ناشکری ہوگی۔اساتذہ کو چاہئے کہ اس سے سبق حاصل کریں اور بچوں سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔بہترین طریق کسی کے دل کو مسخر کرنے کا اس کے بچے سے نیک سلوک ہے۔ریل میں دیکھو۔جب کمرے میں جگہ نہیں ہوتی اور ہر نئے آنے والے کو لوگ داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں اس وقت اگر کسی کے بچے سے ذرا سا بھی پیار کر دیا جائے تو وہ فورا سکڑ کر بیٹھنے کے لئے جگہ بنا دے گا۔بچوں سے عام ہمدردی نہ ہونے کا ایک خطرناک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ سزا دینی مشکل ہو جاتی ہے۔حالانکہ یہ نہایت ضروری چیز ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے و شخص مامور ہونے کے قابل ہی نہیں جو سخت سے سخت سزا دینے کی اہلیت نہ رکھتا ہو۔تو عام ہمدردی نہ ہونے کے باعث بچوں کو سزا دینی بھی مشکل ہو جاتی ہے۔اگر نانوے بچے ایسے ہوں کہ وہ استاد کو اپنا ہمدرد سمجھتے ہوں تو ایک کو سزا دینے پر کوئی نہیں کہے گا کہ یہ بغض یا کینہ سے دی گئی ہے۔لیکن جب عام ہمدردی نہ ہو تو اگر شریر سے شریر کو بھی سزا دی جائے گی پھر بھی لوگ چلا اٹھیں گے کہ یہ بغض اور کینہ سے دی گئی ہے اور جو قوم سزا دینے کی قابلیت نہیں رکھتی وہ آج نہیں تو کل ضرور گرے گی۔مجھے افسوس ہے کہ ابھی اس طرف توجہ نہیں کی گئی۔دوسری بات جو میرے نزدیک لطیف ہے یہ ہے کہ طالب علم کی حفاظت کے لئے ہم اس کے کھیلوں کے اوقات میں اس کی حفاظت کریں۔موجودہ طریق تعلیم میں اس پر خاص زور نہیں دیا جاتا۔اصل بات یہ ہے کہ نگرانی کی ضرورت اسی وقت زیادہ ہوتی ہے جب ہم بچہ کے پاس نہ ہوں یا نہ ہو سکتے ہوں۔اور یہ امر بھی بہت ضروری ہے کہ کچھ عرصہ کے لئے بچہ کو اپنے سے جدا کیا جائے۔اگر ہر وقت ہم اسے اپنی نظروں کے سامنے ہی رکھیں تو اس کی صحت خراب ہو جائے گی۔اس کے لئے ضروری ہے کہ کچھ عرصہ کے لئے