زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 319

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 319 جلد اول حرکت اور مقام میں اس کی حرکت اور مقام نظر نہیں آتا بلکہ دنیا کی حرکت اور دنیا کا مقام نظر آتا ہے۔ہم جانتے ہیں اور خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری کوششیں اور ہماری تدابیر حقیر ہیں مگر اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے عظیم الشان نتائج نکالنے کا خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا ہے۔جب وہ نتائج نکلیں گے تو یہی تدابیر جو اس وقت حقیر نظر آتی ہیں دنیا کی نظر میں بڑی دکھائی دیں گی۔دیکھو رسول کریم ﷺ کی فتوحات اسلامی تاریخ میں جو عظمت رکھتی تھیں اور دنیا پر جو اثر ڈال رہی تھیں وہ جرمنی کی گزشتہ عظیم الشان جنگ سے بھی بڑھ کر تھا۔ایمانی لحاظ سے ہی نہیں بلکہ دنیا میں تغیرات پیدا کرنے کے لحاظ سے بھی بہت بڑا اثر ڈالنے والی تھیں۔گزشتہ جنگ عظیم نے دنیا میں کیا تغیر کیا ؟ بے شک کچھ ملکوں کے نقشے بدل گئے ، بعض علاقے ایک سلطنت کے قبضہ سے نکل کر دوسری کے قبضہ میں چلے گئے ،مگر رسول کریم ہے کی چھوٹی چھوٹی جنگوں نے دنیا پر جو اثر کیا اس کے مقابلہ میں یہ کچھ بھی نہیں۔اُس وقت دنیا شرک اور بت پرستی میں ڈوبی ہوئی تھی۔علوم کی طرف کوئی توجہ نہ تھی۔حریت و آزادی کا کسی کو پتہ نہ تھا۔عورت مرد کے حقوق کا کسی کو خیال نہ تھا۔ظلم ، غلامی اور قیمو درسوم کی یا جہالت کی یا تمدن کی پائی جاتی تھیں۔مگر ان چھوٹی چھوٹی جنگوں کے ذریعہ جن میں تین سو یا ہزار تک سپاہی لڑنے والے ہوتے تھے اور یہ اتنے تھوڑے تھے کہ گزشتہ جنگ میں اتنی تعداد کی لڑائی کی خبر بھی نہ دی جاتی ہوگی کیونکہ دو کروڑ کے قریب لڑنے والے جنگ میں مشغول تھے اور ایسی لڑائیوں کی خبریں شائع کی جاتی تھیں جن میں ہزاروں صلى الله لڑنے والے ہوتے تھے۔دنیا میں جو تغیر ہوا تھا وہ اس بڑی جنگ سے نہیں ہوا۔الله رسول کریم ﷺ کے وقت کی لڑائیاں جنگ کے لحاظ سے ایسی ہی تھیں جیسے کسی محلہ یا گاؤں کے لوگوں کی لڑائیاں ہوتی ہیں۔اور میں سمجھتا ہوں میلوں میں جب کبھی لڑائی ہوتی ہے تو ان جنگوں سے زیادہ تعداد میں لڑنے والے ان لڑائیوں میں شریک ہو جاتے ہیں۔مگر نتائج کے لحاظ سے وہ جنگیں بہت بڑی حیثیت رکھتی تھیں۔اور یہ بات مسلمانوں کے