زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 312
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 312 جلد اول ہے کہ وہ کوشش کریں گی۔مجھے افسوس کے ساتھ معلوم ہوا کہ طالبات کو انگریزی کی طرف زیادہ توجہ ہے۔گو انگریزی کے ماسٹر ( حضرت مولوی شیر علی صاحب) کہتے رہتے ہیں کہ عربی کی طرف زیادہ توجہ ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ انگریزی کی طرف زیادہ ہے۔شاہ صاحب کو اس کا بھی خیال رکھنا ہو گا تا کہ دوسرا فریق زیادہ توجہ نہ لے جائے۔میرا منشا ہے کہ اب سکول ٹائم زیادہ کر دیا جائے اور سوا گھنٹہ یاڈیڑھ گھنٹہ ہر استاد پڑھایا کرے اور گفتگو کرنے کی طرف زیادہ توجہ دی جائے۔اگر خواتین موٹے موٹے فقرے بولنے لگیں تو ان کی توجہ خود بخود بڑھ جائے گی۔عربی یا تو قواعد کے ذریعہ آتی ہے یا پھر بولنے سے۔قواعد چونکہ مشکل ہیں اس لئے انہیں یاد کرتے ہوئے عام طور پر ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔اور انگریزی آسانی سے آسکتی ہے اس لئے ادھر زیادہ توجہ کی جاتی ہے۔عربی مدرس کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ طالبات کی ہمت نہ ٹوٹے۔میں نے خواتین سے عربی کے چھوٹے چھوٹے فقرے بنوائے۔مثلاً یہ کہ کاپی کہاں ہے؟ کتاب کہاں ہے؟ کتاب کس نے اٹھائی؟ کی عربی بناؤ۔آئندہ گھر کی بول چال، کھانے پینے کے متعلق فقرے اگر استعمال کرائے جائیں تو ان کے حوصلے بڑھ جائیں گے۔یا اور کئی طریق زبان سکھانے کے ہوشیار استاد نکال سکتا ہے۔سب سے ضروری یہی ہے کہ عربی کی طرف خاص توجہ ہو۔یوں تو سارے ہی علوم ضروری ہیں لیکن عربی کے ساتھ چونکہ ہمارے مذہبی امور وابستہ ہیں اس لئے یہ سب سے ضروری ہے۔مگر عربی میں طالب علم جلدی ہمت ہار دیتے ہیں اور ابتدائی مشکلات کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ ہم اسے حاصل نہیں کر سکیں گے حالانکہ یہ بہت تھوڑا سا رستہ ہوتا ہے۔اسے اگر طے کر لیں تو پھر آسانی ہو جاتی ہے بشرطیکہ اردگرد عربی بولنے والے ہوں۔اور اگر یہ نہ ہوں تو عالم بھی عربی بولنا بھول جاتے ہیں۔طالبات کو ابتدائی مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ کوشش کرنی چاہئے کہ اس مقام پر پہنچ سکیں۔زبان دان کہلا سکیں اور آسانی سے علمی کتابیں پڑھ سکیں۔میں اس نصیحت کے ساتھ اس تقریر کو ختم کرتا ہوں۔امید ہے شاہ صاحب بھی اس بات کی