زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 311

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 311 جلد اول اُس وقت اگر میں قانون کی پابندی کرنا نہ سیکھتا تو آج بادشاہ نہ بن سکتا۔تو بعض باتیں تکلیف دہ ہوتی ہیں مگر ان کے نتائج اچھے لکھتے ہیں۔خواتین کو اس قسم کی باتوں سے ہمت نہیں ہارنا چاہئے اور تکلیف برداشت کرتے ہوئے علمی ترقی کرنی چاہئے اور استادوں کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ تمام طالبات میں ایک قسم کی ہم آہنگی ہو۔میں امید کرتا ہوں شاہ صاحب اس بات کو مد نظر رکھیں گے۔بعض لڑکیاں جو ہوشیار اور ذہین ہوں وہ جلدی ترقی کر جاتی ہیں مگر جب جماعت بنائی جائے تو ضروری ہے کہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جو کمزور ہوں ان کو بھی ترقی حاصل ہو۔اور اس کا طریق یہی ہے کہ ان سے زیادہ سوال کئے جائیں اور ان کا زیادہ خیال رکھا جائے۔میرے نزدیک ایک اس بات کی ضرورت ہے کہ ہر ایک سے سوال کئے جائیں اور ہر ایک کو مجبور کیا جائے کہ جواب دے۔مجھے یہ معلوم کر کے حیرت ہوئی کہ میری لڑکی نے کبھی سوال کا جواب نہ دیا تھا۔جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے اسے بلا کر سختی سے کہا کہ ضرور جواب دینا چاہئے۔شاہ صاحب کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ جو خواتین نہ بولتی ہوں انہیں بلوائیں اور جو پڑ اور جو پڑھائی میں کمزور ہوں ان کی طرف زیادہ توجہ کریں۔میں نے عورتوں میں یہ خوبی دیکھی ہے کہ وہ کمی کو بہت جلدی پورا کر لیتی ہیں اگر ان کی طرف خیال رکھا جائے۔پھر ایک اور ضروری بات جس کا خیال رکھنا چاہئے یہ ہے کہ خواتین کو علم کے استعمال کی عادت پڑے۔ہمارے لئے صرف نحو ایک ایسا حصہ ہے کہ جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اب کے کورس میں رکھ دیا ہے۔طالبات عموماً کوشش کرتی ہیں کہ غیر زبان بولنے سے پیچھے ہیں۔لیکن اگر شاہ صاحب عربی پڑھاتے ہوئے مجبور کریں گے کہ عربی میں جواب دیں تو امید ہے عربی میں جواب دینے لگ جائیں گی۔اب ان کی تعلیم اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ان سے باتیں کرائی جائیں۔میں اس سال خواتین کی پڑھائی کے لئے زیادہ وقت نہیں دے سکا امید ہے کہ شاہ صاحب اس کمی کو پورا کریں گے اور طالبات سے بھی امید