زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 310
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 310 جلد اول اس پر تو یہ اعتراض پڑتا ہے۔کہنے لگے اچھا اسے جانے دو۔اور سنو۔پھر دوسری آیت سنائی۔اس پر بھی جب اس نے اعتراض کیا تو تیسری سنا دی۔حتی کہ ساری آیتیں سنا کر ختم کر دیں۔آواز میں رعب ہو تو اس کا خاص اثر ہوتا ہے۔پس ضروری ہے کہ خواتین کو اس طرح بولنے کی عادت ہو کہ ان کی آواز میں شوکت اور رعب پایا جائے لیکن باوجود اس کے کہ میری یہ خواہش رہی ہے اور باوجود اس کے کہ میں نے اس کے لئے کوشش بھی کی ہے میں اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔اب میں یہ کام شاہ صاحب کے سپرد کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اس بارے میں خیال رکھیں گے۔اگر چہ وہ پہلے خیال نہیں رکھتے تھے۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض طالبات ایسی بھی ہیں جنہوں نے کبھی مدرس کے سوال کا جواب ہی نہیں دیا اور مدرس نے بھی مجبور کر کے ان سے جواب نہیں لیا۔خالی تعلیم کوئی چیز نہیں۔قرآن کریم نے اس کی مثال گدھے سے دی ہے 1 جب تک وثوق ، امنگ اور عزم نہیں تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔اور اس کے لئے بلند ، پر شوکت، دلیری اور رعب والی آواز ہونی چاہئے۔میں امید کرتا ہوں کہ مدرسہ خواتین کے مدرس اس امر کا خیال رکھیں گے اور جرات سے بولنے، فوراً بولنے اور صحیح جواب دینے کی عادت ڈالیں گے۔چونکہ میں نقائص کے دور کرنے پر بہت زور دیا کرتا ہوں جسے سختی سمجھا جاتا ہے اس لئے خواتین شاہ صاحب کے آنے پر خوش ہوں گی کہ اب میری سختی جاتی رہے گی۔مگر جسے انہوں نے سختی محسوس کیا وہی دراصل ان کے لئے بہترین چیز تھی۔بچپن میں ہم نے ایک کہانی پڑھی تھی کہ ایک ہنری بادشاہ ہوا ہے۔لڑکپن میں وہ بہت شوخ تھا۔ایک گاؤں میں اسے پرورش کے لئے بھیج دیا گیا۔وہاں کسی معاملہ میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا تو اس نے اپنے آپ کو ولی عہد سمجھ کر مجسٹریٹ سے گستاخی کی۔اس پر مجسٹریٹ نے سزا دے دی۔آخر جب بادشاہ مرا اور ہنری خود بادشاہ ہوا تو اس نے مجسٹریٹ کو بلایا۔مجسٹریٹ ڈرا کہ نہ معلوم مجھ سے کیا سلوک کرے گا۔مگر اس نے بلا کر کہا اس واقعہ کا مجھ پر ایسا اثر ہے کہ میں آپ کو اپنی حکومت میں سب سے بڑا حج بنا تا ہوں۔