زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 306
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 306 جلد اول جائے لوگ اس کی باتوں پر کان دھریں گے۔اسی سٹرائیک میں جو ولایت کے مزدوروں نے کر رکھی ہے آرچ بشپ آف کنٹر بری ( Archbishop of Canterbury) نے ایک اعلان سرکاری اخبار میں شائع ہونے کے لئے بھیجا جو نہ شائع کیا گیا۔اس پر پارلیمنٹ میں سوال کیا گیا کہ کیوں اعلان شائع نہیں ہوا۔آخر گورنمنٹ کو مانا پڑا کہ غلطی ہوئی ہے اور اب جلد شائع کر دیا جائے گا۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ پادریوں کی کس قدر قدر کی جاتی ہے۔بے شک لوگ ان کی مذہبی باتوں پر بنتے بھی ہیں مگر ان کی قدر بھی کرتے ہیں کہ ملک کو ترقی دینے اور اٹھانے میں حصہ لیتے ہیں۔ابھی ہم جب ولایت مذہبی کا نفرنس کے موقع پر گئے تو بڑے بڑے لوگ پادریوں پر ہنتے تھے کہ وہ اس وجہ سے کانفرنس میں شامل نہیں ہوئے کہ اس طرح لوگوں کو پتہ لگ جائے گا کہ دنیا میں اور مذاہب بھی ہیں۔مگر کیا ہم اندھے ہیں کہ یہ بات پہلے نہیں جانتے۔اس طرح پادریوں پر ہنستے بھی ہیں۔ابھی ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یورپ کے 70 فیصدی لوگ عیسائیت کے خلاف ہیں۔مگر باوجود اس کے پادریوں کی قدر کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگ تمدنی زندگی کی اصلاح کر رہے ہیں۔اور اگر ان کو نکال دیا گیا تو حکومت کا سسٹم ٹوٹ جائے گا۔وہ بات جو پادریوں کی قدر کراتی ہے یہ ہے کہ پادری روزانہ گھر سے نکلتا ہے۔ایک علاقہ کا چکر لگاتا ہے۔غریبوں کے گھروں میں جاتا ہے۔ان کی حالت پوچھتا ہے۔بیماروں کی بیمار پرسی کرتا ہے۔کوئی بیوہ ہو، جسے خرچ کی تنگی ہوا سے لوگوں سے چندہ کر کے خرچ پہنچاتا ہے۔مالدار لوگوں کو غرباء کی مدد اور ہمدردی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ایسے لوگوں کے متعلق کیا کوئی قوم برداشت کر سکتی ہے کہ ان کو نکال دیا جائے۔وہ ان کی قدر کرتی ہے اور انہیں عزت کی نظر سے دیکھتی ہے۔آپ لوگ بھی اگر کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اس طرح لوگوں کی ہمدردی حاصل کریں۔محض مذہبی مباحثے کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔بے شک آج لوگ لڑائی جھگڑے پسند کرتے ہیں اس لئے مباحثوں کی قدر کرتے ہیں مگر کل ایسا نہیں ہوگا۔آجکل پادری آدھ گھنٹہ لیکچر دے آتا ہے جو پانچی سویا آٹھ سو خو د لیتا ہے تو