زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 305

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 305 جلد اول معرفت ہم نے اس بارے میں کوشش کی اور اس نے لکھا بھی کہ احمدیوں سے یہ پابندی دور ہونی چاہئے مگر اس کا کچھ اثر نہ ہوا۔اور عجیب بات یہ ہے کہ رکاوٹ پیدا کرنے والا افسر انگریز تھا جس کے دل میں ہندوستانیوں نے یہ بٹھا رکھا تھا کہ ادھر احمد یوں کو تبلیغ کی اجازت ہوئی ادھر سارے ملک میں بغاوت ہو جائے گی۔پس شاہ صاحب نے یہ بہت بڑی خدمت کی ہے گو اتفاق سے ہوئی ہے مگر یہ بھی یونہی حاصل نہیں ہو جاتا۔یہ اسی اخلاص کا نتیجہ تھا کہ وہ خطرات میں رہے اور محض خدا کے دین کی خدمت کے لئے رہے۔اس پر خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ وہ کسی کامیابی سے محروم رہیں۔اس لئے رستہ میں اس نے سامان پیدا کر دیئے۔اور میں سمجھتا ہوں یہ کام اس رنگ کا ہے کہ اگر ہم اسے آئندہ کے لئے مثال قرار دیں اور ہوشیاری سے باتوں کو حل کریں تو کامیاب ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ سبق ہے کہ عمدہ تدبیروں سے کام لیا جائے تو بہت سی روکوں کو دور کر سکتے ہیں۔اس ریویو کے بعد میں اس تقریر کو ختم کرنے سے پہلے طلباء مدرسہ احمدیہ کو نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ میں ان کے شکریہ کے جذبات کو قدر کی نظر سے دیکھتا ہوں۔مگر نصیحت کرتا ہوں کہ کوئی قوم اُس وقت تک کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس کے افراد اپنے اخلاق خاص طرز پر نہ ڈھالیں اور وہ ہمدردی اور محبت کی تعلیم جو اسلام نے دی ہے اور کسی مذہب نے نہیں دی۔ایک پنڈت اپنے پیروؤں کو کیا سکھاتا ہے؟ وہ صرف پھیرے دینا جانتا ہے۔مگر اسلام نے جو تعلیم دی ہے وہ ملکی ، قومی، تمدنی فوائد اپنے اندر رکھتی ہے اور ان کا بیان کرنے والا مولوی ہے۔اسی طرح عیسائی پادری کیا بیان کرتا ہے؟ یہی کہ مسیح گنہگاروں کو بچالے گا۔کوئی ایسی تعلیم پیش نہیں کرتا جو روزانہ زندگی میں کام آ سکتی ہو۔اس وجہ سے جو اثر ایک مولوی کی باتوں کا ہونا چاہئے اس کا ہزارواں حصہ بھی پادریوں کی باتوں کا نہیں ہونا چاہئے۔کیونکہ مولوی جو کچھ بیان کرتا ہے اس کا اثر روزانہ زندگی پر پڑتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ مولوی کی بہت زیادہ قدر ہو اور پادری کی نہ ہو۔مگر اس کے الٹ نظر آتا ہے۔یورپ مذہبی لحاظ سے دہر یہ ہو گیا ہے۔مگر پادری جہاں بھی چلا