زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 25

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 25 إنَّمَا انْتَ مُذَكِّرُ - لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَّيْطِرِى جلد اول جماعت میں کیا کیا احساس پیدا کر و جماعت میں ایک احساس پیدا کرو۔وہ احمدیوں کی محبت پر دوسرے رشتہ داروں کی محبت کو قربان کر دیں۔ایسی محبت احمدی لوگوں سے ہونی چاہئے کہ رشتہ داری کی محبت سے بھی بڑھ جائے۔حق کی تائید ہونی چاہئے۔یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اگر احمدی کے مقابل میں رشتہ دار آ گیا ہے تو رشتہ دار کی طرف داری اختیار کر لی جائے۔ہماری قوم ہماری جماعت احمدیت ہے۔پھر اس بات کا احساس پیدا کرنا بھی ضروری ہے کہ دین کا اب سب کام ہم پر ہے۔جب یہ کام ہم پر ہے تو ہم نے دنیا کے کتنے مفاسد کو دور کرنا ہے۔پھر اس کے لئے کتنی بڑی قربانی کی ضرورت ہے۔اس بات کو پیدا کرو کہ ہر ایک آدمی مبلغ ہے۔صحابہ شسب مبلغ تھے۔اگر ہر ایک آدمی مبلغ ہو گا تب اس کام میں کچھ آسانی پیدا ہوگی اس لئے ہر ایک احمدی میں تبلیغ کا جوش پیدا کرو۔پھر مالی امداد کا احساس پیدا کر و۔اگر چہ ہماری جماعت کا معیار تو قائم ہو گیا ہے کہ فضول جگہوں میں جو روپیہ خرچ کیا جاتا ہے مثلاً بیاہ شادیوں میں وہ اب دین کے کاموں میں خرچ ہوتا ہے۔لیکن یہ احساس پیدا ہونا چاہئے کہ ضروریات کو کم کر کے بھی دین کی راہ میں روپیہ خرچ کیا جائے۔جماعت کا اکثر ئے۔حصہ ست ہے۔کچھ لوگ ہیں جو بہت جوش رکھتے ہیں۔لیکن یہ بات پوشیدہ نہیں کہ آخر میں سارا بوجھ ان ہی لوگوں پر پڑ کر ان لوگوں میں ستی آنی شروع ہو جائے گی۔تو ایک حصہ پہلے ہی ست ہوا دوسرا پھر اس طرح ست ہو گیا تو یہ اچھی بات نہیں۔اس لئے چاہئے کہ جماعت کو ایک پیمانہ پر لایا جائے۔جماعت کی یہ حالت ہے کہ اخبار میں چندے کے متعلق نکلے تو کان ہی نہیں دھرتے۔ہاں علیحدہ خط کی انتظار میں رہتے ہیں۔لیکن اگر کسی شخص کا لڑکا گم ہوا ہو اور اخبار میں نکل جائے تو جس کے ہاں ہوتا ہے وہ اسے وہیں روک لیتا ہے خط کی انتظار نہیں کرتا۔ان کے دلوں میں ایسا جوش پیدا کرو کہ جو نہی یہ دین کے لئے آواز سنیں فوراً دوڑ پڑیں۔پہلے مبلغ اپنی زندگی میں یہ احساس پیدا کریں۔