زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 290

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 290 جلد اول اچھی طرح لکھے جائیں گے۔لامذہب ہونے سے کیا مراد ہے؟ یہی کہ اپنے مذہب کی رسم و رواج کو چھوڑ دینا۔حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ان رواجوں کو مٹنے دو۔جب ان لوگوں کو کے دل کی تختیاں صاف ہو جائیں گی تو ان پر اچھا لکھا جائے گا۔یورپ کے لوگوں کی تختیاں صاف ہو چکی ہیں۔جو باتیں ہمارے ملک میں لوگوں کو سچے مذہب کے قبول کرنے سے روکتی ہیں وہ وہاں نہیں رہیں۔مگر ان کے بجائے اور پیدا ہوگئی ہیں۔اور وہ ان کے وہ اصول ہیں جو انہوں نے خود بنا لئے ہیں۔جب کوئی انسان کسی بات کے لئے چیختا چلاتا ہے تو ہر جگہ یہ قانون قدرت جاری ہے کہ اس کا طبعی طور پر جواب موجود ہوتا ہے۔انسان کے جسم کے اندر جو نبی بیماری پیدا ہوتی ہے اس کے ساتھ ہی اس کا طبعی علاج بھی پیدا ہو جاتا ہے۔اگر انسان کے جسم پر کہیں زخم لگتا ہے تو اس زخم کے اردگرد ایسے سامان جمع ہو جاتے ہیں جو اسے آگے بڑھنے سے روکتے ہیں۔اسی طرح انسان جو نہی لامذہبیت کی طرف جاتا ہے فطرت کی پکار ا سے سنائی دینے لگتی ہے اور اس کے لئے اسی طرح سامان پیدا ہو جاتے ہیں جس طرح جب بخار چڑھتا ہے، ملیریا ہوتا ہے تو خون میں جو کیڑے ہوتے ہیں وہ اس کا مقابلہ کرتے ہیں اور جب وہ غالب آ جاتے ہیں تو بخار ٹوٹ جاتا ہے۔لیکن ایک طبیب جانتا تھا کہ جب تک بیرونی امداد نہ ہو گی اُس وقت تک بخار پیچھا نہ چھوڑے گا اس لئے وہ دوا کے ذریعہ امداد پہنچاتا ہے۔اسی طرح دہریت کی طرف جانے والے لوگوں کے ارد گرد خیالات کا ایک ایسا دائرہ پیدا ہو جاتا ہے جو دہریت سے ان کو بچانا چاہتا ہے اور جس طرح اور باتوں میں یہ قانون قدرت جاری ہے اسی طرح دہریت کے خیالات رکھنے والوں کے لئے بھی جاری ہوتا ہے جو ان کو لامذہبیت میں گرنے سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔اگر انسان عقل سے مذہب تیار کرے تو بے شک اس کا تیار کیا ہوا نہ ہب کئی باتوں میں مذہب سے مشابہ ہوگا مگر وہ مذہب نہ ہوگا۔کیونکہ مذہب نام ہے خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہنے کا۔فطرت کی آواز پر لبیک کہنا فطری علاج ہے نہ کہ مذہب۔مذہب وحی کی آواز پر لبیک کہنے کا نام ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام