زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 19

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 19 جلد اول لَوْلَا يَنْههُمُ الرَّيْنِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَصْنَعُوْنَ - 4 کیوں انہوں نے نہ روکا۔تو یہ فرض ہے۔بمبئی کے مولویوں کی طرح نہ ہو۔وہی لیکچر ہونا چاہئے جس کی لوگوں کو ضرورت ہو۔یہی بات ہمارے اور لاہوریوں کے درمیان جھگڑے کی ہے۔وہ مرض بتا نا نہیں چاہتے اور ہم مرض بتانا چاہتے ہیں۔ان باتوں پر لیکچر دینے کی ضرورت نہیں جو اچھی باتیں ان میں ہیں یا جو بدیاں ان میں نہیں ہیں۔اگر وہ لڑکیوں کو حصہ نہ دیں تو اس پر لیکچر دو۔روزے نہ رکھیں تو اس پر دو۔نماز نہ پڑھیں تو اس کی پر دو۔زکوۃ ادا نہ کریں تو اس پر دو۔صدقہ و خیرات نہ دیں تو اس پر دو۔لیکن جو باتیں ان کے میں ہیں ان پر نہ دو۔غریبوں پر اگر وہ ظلم کرتے ہیں، شریفوں کا ادب نہیں کرتے ، چوری کرتے ہیں ، جھوٹ بولتے ہیں ان پر لیکچر دو۔لیکن چوری ان میں نہیں ہے اس پر نہ دو۔مرضیں تلاش کرو اور پھر دوا دو۔کبھی کسی خاص شخص کی طرف اشارہ نہ ہو۔میں اپنا طریقہ بتا تا ہوں۔میں نے جب کبھی کسی کی مرض کے متعلق بیان کرنا ہو تو میں دو تین مہینے کا عرصہ درمیان میں ڈال لیتا ہوں تا کہ وہ بات لوگوں کے دلوں میں بھول جائے۔تو اتنا عرصہ کر دینا چاہئے۔اگر موقع ملے تو اس شخص کو جس میں یہ مرض ہے علیحدہ تخلیہ میں نرم الفاظ کے ساتھ سمجھاؤ۔ایسے الفاظ میں کہ وہ چڑ نہ جائے۔ہمدردی کے رنگ میں وعظ کرو۔ایک طرف اتنی ہمدردی دکھاؤ کہ غریبوں کے خدمت گا رتم ہی معلوم ہو۔دوسری طرف اتنا بڑا بنو کہ تمہیں دنیا سے کوئی تعلق نہ ہو۔دو فریق بننے نہ دو۔دو شخصوں کے جھگڑے کے متعلق کسی خاص کے ساتھ تمہاری طرف داری نہ ہو۔کوئی مرض پاؤ تو اس کی دوا فور ادو۔کسی موقع پر چشم پوشی کر کے مرض کو بڑھنے نہ دو۔ہاں اگر اصلاح چشم پوشی ہی میں ہو تو کچھ حرج نہیں۔لوگوں کو جو تبلیغ کرواس میں ایک جوش ہونا چاہئے۔جب تک تبلیغ میں ایک جوش نہ ہو وہ کام ہی نہیں کر سکتا۔سننے والے پر اثر ڈالو کہ جو تم کہہ رہے ہو اس کے لئے جان دینے کے لئے تیار ہو۔اور یہ جو