زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 18
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 18 جلد اول کے لئے ضروری ہے کہ ایک طرف اگر ان میں دنائت نہ ہو تو دوسری طرف متکبر بھی نہ ہو۔لوگ نوکر اس کو سمجھیں گے جو ان سے سوال کرتا ہو۔جو سوال ہی نہیں کرتا اس کو وہ نوکر کیونکر سمجھیں گے۔اگر وہ اس کے پاس آئیں گے تو تو کر سمجھ کر نہیں بلکہ ہمدرد سمجھ کر۔اگر اس سے کچھ پوچھیں گے تو ہمدرد سمجھ کر۔اس وقت پھر مبلغ کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ میں تو کر نہیں۔انہوں نے تو اسے نو کر نہیں سمجھا وہ تو ا سے ہمدرد سمجھ کر آئے ہیں۔تو یہ دور رنگ ہونے چاہئیں کہ اگر سب سے بڑا خادم ہو تو ہمارا مبلغ ہوا اور اگر لوگوں کے دلوں میں کسی کا ادب ہو تو وہ ہمارے مبلغ کا ہو۔اس کے لئے وہ اپنے مال قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔اس کے لئے جان دینے کے لئے تیار ہوں۔پھر مبلغ کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ وہ دعائیں کرتا رہے دعائیں کرتے رہو کہ الہی ! میں ان لوگوں کو ناراستی کی طرف نہ لے جاؤں۔جب سے خلافت قائم ہوئی ہے میں یہی دعا مانگتا ہوں۔ایک امام کی نسبت ایک لطیفہ ہے کہ بارش کا دن تھا۔ایک لڑکا بھاگتا چلا جا رہا تھا۔امام صاحب نے کہا لڑ کے دیکھنا کہیں گر نہ پڑنا۔لڑکا ہوشیار تھا بولا آپ میرے گرنے کی فکر نہ کریں میں گرا تو اکیلاگروں گا آپ اپنے گرنے کی فکر کیجئے۔اگر آپ گرے تو ایک جماعت گرے گی۔امام صاحب کہتے ہیں کہ مجھ پر اس بات کا بہت ہی اثر ہوا۔تو مبلغ کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اگر وہ گرے گا تو اس کے ساتھ اس کا حلقہ بھی گر جائے گا۔دیکھو مولوی گرے مسلمان بھی گر گئے۔یہ دو باتیں ہر وقت مد نظر رہنی چاہئیں۔اول کوئی تو ایسی بات نہ کرے جس پر پہلے سوچا اور غور نہ کیا ہو۔دوم دعا کرتا رہے کہ الہی ! میں جو کہوں وہ ہدایت پر لے جانے والا ہو۔اگر غلط ہو تو الٰہی ! ان کو اس راہ پر نہ چلا۔اور اگر یہ درست ہے تو الی ! توفیق دے کہ یہ لوگ اس راہ پر چلیں۔جو بدی کسی قوم میں ہواس کی اپنے عمل دیکھتا رہے۔کبھی ستی نہ کرے۔لوگوں کو ان کی غلطی سے روکے۔ایسا نہ تردید میں جرات سے لیکچر دو ہو کہ اللہ تعالی کے قول کے نیچے آئے۔