زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 192
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 192 جلد اول اس طرف اشارہ بھی کر دیا تھا اور جانے والوں کو بتا دیا تھا کہ اگر تم پورے زور اور اخلاص سے کام کرو گے تو تمہارے لئے فتوحات کے دروازے کھل جائیں گے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے میری بات پوری کر دی اور اس وقت تک دو بڑے گاؤں میں جن میں سے ایک اپنی شرافت کے لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے اور دوسرا آثار قدیمہ کی وجہ سے ملکانوں میں خاص رتبہ رکھتا ہے ان کا اکثر حصہ اسلام میں واپس آ گیا ہے۔یعنی ایک تو آنور کا قصبہ جس کے قریب کرشن جی پیدا ہوئے تھے۔وہاں ایک پہاڑی ہے جس کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔اس کے پاس دور دور سے لوگ آتے اور بعض لیٹ لیٹ کر اس کے گرد چکر لگاتے ہیں۔تو ان آثار کو ملکا نے قدر اور عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔دوسرا گاؤں جس کے لوگ شرافت کے لئے اور فہمیدہ ہونے کے لحاظ سے عزت رکھتے ہیں اُسپار ہے۔اس کا بھی بڑا حصہ اسلام کو قبول کر چکا ہے اور یہ اب عام رو چل گئی ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی دقتیں بھی پیدا ہو گئی ہیں اور وہ یہ کہ جو جماعتیں وہاں آریوں کے خلاف لڑ رہی تھیں ان میں مزید بھرتی کی طاقت نہیں رہی اور عین اس وقت جبکہ فتوحات ہو رہی ہیں ہمارے دائیں سے بھی اور بائیں سے بھی لوگ ہٹنے شروع ہو گئے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ کام جنگی طریق سے ہو رہا ہے اور جس طرح جنگ میں لڑنے والے فوج کے دائیں اور بائیں سے ہٹنے والوں کی وجہ سے اس کو نقصان پہنچتا ہے اسی طرح یہاں ہمارے لئے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں کیونکہ ان علاقوں کو جہاں دوسرے مولوی کام کر رہے تھے انہوں نے چھوڑ نا شروع کر دیا ہے۔بعض نے تو اپنے آدمی کم کر دیئے ہیں۔بعض جماعتوں کے آدمیوں کا کام صرف کھانا پینا یا ہنسی مذاق کر کے وقت گزار دینارہ گیا ہے۔بعض جماعتوں کے اوپر کے کام کرنے والے تھک گئے ہیں اور وہ اپنا قدم پیچھے ہٹا رہے ہیں۔اس طرح ہمارا دایاں بازو خالی ہو رہا ہے اور بایاں بھی۔مگر ہم سمجھتے ہیں خدا کے فضل سے درحقیقت ہمارے لئے یہ مشکلات نہیں بلکہ کامیابی کے ذرائع ہیں کیونکہ جب اور لوگ تھک کر آجائیں گے اور اس کام کو چھوڑ چھاڑ کر بیٹھ رہیں