زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 185
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 185 جلد اول پس ہماری طرف آواز ملکانوں کی نہیں آرہی بلکہ اسلام کی آواز آرہی ہے اور اسلام ہمیں بلا رہا ہے کہ آؤ آکر میری حفاظت کرو۔ہم نے یہ کام اس لئے نہیں شروع کیا کہ ملکا نا قوم کو بچانا ہے بلکہ اس لئے شروع کیا ہے کہ اسلام کو محفوظ کرنا ہے۔اس لئے کوئی یہ نہ کہے کہ ملکا نے حریص اور لالچی ہیں اس لئے ان کی اصلاح مشکل ہے۔خواہ یہ لوگ کتنے ہی حریص اور لالچی ہوں مگر ان بدوؤں سے تو زیادہ نہیں ہو سکتے جن کی اصلاح کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا۔اور جنہوں نے ایک دفعہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنگ سے واپس آرہے تھے آپ کے گلے میں کپڑا ڈال کر کھینچا اور کہا ہمیں مال کیوں نہیں دیتے ؟ مگر میں نے کسی مبلغ سے یہ نہیں سنا کہ کسی ملکانہ نے اس کے گلے میں رسی ڈال کر اس لئے کھینچا ہو کہ روپیہ دو۔پس اگر ان کے بدوؤں کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جان کو خطرہ میں ڈال سکتے ہیں، مسلمانوں کو خطرہ میں ڈال سکتے ہیں ، مسلمانوں کے اموال کو خطرہ میں ڈال سکتے ہیں تو ان ملکانوں کے لیے کیوں ہم اپنی جانوں اور مالوں کو خطرہ میں نہیں ڈال سکتے۔بدو خواہ کیسے ہی لالچی تھے مگر چونکہ اسلام کے لئے اجتماع اور مرکز بنا نا ضروری تھا اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے چاہے کوئی اسلام کی ایک بات ہی سمجھے مسلمان سمجھا جائے ، آگے وہ خود سب کچھ سیکھ جائے گا نہ یہ کہ چونکہ وہ لوگ لالچی اور بہت گرے ہوئے تھے اس لئے آپ نے ان کی اصلاح کے لئے کوشش ہی نہ فرمائی۔آپ نے کوشش کی اور محض لا اله الا الله محمد رَّسُولُ اللهِ سمجھنے پر ان کو داخل اسلام کر لیا۔پس جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدوؤں کے لئے قربان کیا وہ ہم نہیں کر رہے بلکہ اس سے بہت ہی کم کر رہے ہیں۔پھر اس سے بھی کوتاہی کرنا کس قدر افسوس ناک امر ہے۔اس بات کو خوب اچھی طرح یا درکھو کہ یہ کسی قوم کا سوال نہیں نہ کسی قوم کی آواز ہے بلکہ اسلام کی آواز ہے اور اس کو سن کر کس طرح کوئی مومن خاموش رہ سکتا ہے۔دیکھوا بھی یونان میں اٹلی والوں کے کچھ آدمی مارے گئے ہیں اس وجہ سے ساری اٹلی یونان کے خلاف کھڑی ہوگئی۔اتحادیوں نے انہیں کہا کہ