زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 175

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 175 جلد اول ہمارے دشمن ہیں۔اپنے بھی دشمن ہیں اور پرائے بھی دشمن ہیں۔اور ہماری مثال ایسی ہی ہے کہ ایک فوج جو دوسروں کی امداد کے لئے لڑائی پر جاتی ہے اس پر وہی لوگ حملہ شروع کر دیتے ہیں جن کی مدد کے لئے گئی تھی۔اس وقت وہ مسلمان جن کی مدد کے لئے ہم علاقہ ارتداد میں گئے تھے وہ بھی ہم پر حملہ کر رہے ہیں اور جن کا مقابلہ در پیش ہے یعنی آریہ وہ بھی حملہ آور ہیں اور انہوں نے اس خیال سے کہ اگر احمدی مبلغ نہ آتے تو ہم بہت جلدی اور بڑی آسانی سے ملکانوں کو مرتد کر لیتے ، انہوں نے آ کر کیوں ہمارے راستہ میں رکاوٹیں ڈالنی شروع کر دی ہیں دوسرے مقامات پر ہمارے آدمیوں کو تکالیف پہنچانی شروع کر دی ہیں اور ایسے دفاتر سے جہاں آریوں کا قبضہ و تصرف ہے معمولی معمولی باتوں پر احمدیوں کو نکال رہے ہیں۔غرض ہمارے چاروں طرف دشمن ہی دشمن ہیں اور اس وقت ہماری حالت اُحد کے مُردوں جیسی ہے جن کے متعلق ایک صحابی کہتے ہیں ہمارے پاس اتنا بھی کپڑا نہ تھا کہ جس سے ہم مردوں کو ڈھانپ سکتے۔اگر سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور اگر پاؤں ڈھانپتے تو سر ننگا ہو جاتا۔2 ہماری حالت ایسی ہی ہے۔اگر سر ڈھانپتے ہیں تو پاؤں ننگے ہو جاتے ہیں اور اگر پاؤں ڈھانپتے ہیں تو سرنگا ہو جاتا ہے۔ہماری کوششوں میں بہت سے نقص صرف اس وجہ سے رہ جاتے ہیں کہ کافی سرمایہ نہیں ہے اور ہمارے پاس کافی سامان نہیں۔دیکھنے والا تو کام کا نقص کہتا ہے کہ مگر کام کرنے کا نقص نہیں بلکہ سرمایہ کی کمی کا نقص ہوتا ہے۔مثلاً ہمارے افسر کی حیثیت ایک سے زیادہ نہیں ہوتی۔جب یہ حالت ہو تو وہ افسر کس طرح ان افسروں کی طرح تجاویز سوچ سکتا ہے جو خود کلرکوں کی نگرانی بھی نہیں کرتے۔اس کے لئے نگران سپرنٹنڈنٹ اور ہوتے ہیں اور افسر بڑے بڑے معاملات پر غور کرتا رہتا ہے۔پس ہمارے لئے اس قدر مشکلات ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی نصرت شامل حال نہ ہو تو ہم کچھ بھی نہ کر سکیں۔ہم نے ہندوستان سے باہر جو تبلیغی کام شروع کر رکھے ہیں وہاں اس قدر خرچ ہو رہا ہے کہ اسی کے لئے خاص چندے کرنے پڑتے ہیں۔مگر اب ملکا نہ تبلیغ