زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 168

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 168 جلد اول ایسے ہوتے ہیں جن کے کرنے سے پچھلی کو تا ہیاں معاف ہو جاتی ہیں۔ان کاموں میں سے ایک جہاد بھی ہے۔جو شخص خدا کی راہ میں جہاد کے لئے نکلتا ہے خدا تعالیٰ اس کے پچھلے قصور اور کوتاہیاں معاف کر دیتا ہے کیونکہ وہ جب خدا کے لئے اپنا وطن ، اپنے عزیز اور اپنا آرام چھوڑ دیتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اس کی پہلی خطاؤں کو معاف کر دیتا ہے۔اگر چہ ہمارا جہاد وہ جہاد نہیں جیسا کہ پہلوں نے کیا۔اسی وجہ سے مجھے رقت آگئی تھی۔ہماری مثال تو اس بچہ کی سی ہے جو مٹی کا گھر بنا کر کہتا ہے یہی حل ہے۔رسی کمر میں باندھ کر کہتا ہے کہ میں فوجی افسر ہوں۔چھوٹی سی سوٹی پکڑ کر کہتا ہے کہ یہ تلوار ہے۔میلے کچیلے کپڑوں میں سٹول پر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے میں بادشاہ ہو گیا۔ہماری مثال بھی ایسی ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے کہ بعض ہندو جو گوشت نہیں کھاتے وہ بوٹیوں کی شکل کی بڑیاں بنا کر کھاتے اور انہیں بوٹیاں سمجھتے۔مجھے اس بات پر رونا آتا ہے کہ ہمیں وہ جہاد میسر نہیں جو پہلوں نے کیا مگر اپنے دلوں کو خوش کرنے کے لئے چھوٹی باتوں کا نام جہا درکھ لیا ہے۔لیکن اگر ہمارے دلوں میں اس جہاد کا شوق ہے جو پہلوں نے کیا ، اگر ہمارے دلوں میں اس بات کی تڑپ ہے کہ ہم دین کے لئے قربانی کریں اور کسی قسم کی کمزوری نہ دکھا ئیں تو وہ خدا جوان سامانوں کو مہیا کرنے والا ہے جن کے نہ ہونے کی وجہ سے ہم وہ جہاد نہیں کر سکتے اس نے چونکہ ہمارے لئے وہ سامان مہیا نہیں کئے اس لئے ہمیں اس ثواب سے محروم نہ رکھے گا جو جہاد کا سامان ہونے کی وجہ سے ہوسکتا تھا۔تو جہاد کے لفظ نے اپنی کوتاہ عملی اور اپنے دائرہ عمل کی تنگی کو میرے سامنے لا کر کھڑا کر دیا جس سے میرا دل پگھل گیا مگر بہر حال بچہ بھی تو بادشاہ بن کر خوش ہو ہی لیتا ہے چلو نام کی مشارکت کی وجہ سے ہی ہم بھی خوش ہو لیں اور لہو لگا کر شہیدوں میں مل جائیں۔پس اس کو بھی ہم جہاد کہہ سکتے ہیں گو وہ ایسا جہاد نہ ہو جیسا کہ پہلوں نے کیا۔اور جو جہاد کے لئے نکلیں ان کے لئے خدا کی سنت ہے کہ ان کے پچھلے گناہوں اور کوتاہیوں کو معاف کر دیتا ہے۔کہتا ہے انہوں نے جب میری خاطر سب کچھ چھوڑ دیا تو میں بھی ان کے