زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 167

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 167 جلد اول محروم رہ جاتے ہیں۔وہ اسی خیال میں پڑے رہتے ہیں کہ ابھی اور سوچ لیں، دیکھ لیں کیا ہوتا ہے اسی تردد میں وقت گزر جاتا ہے۔پس میں ان لوگوں کو مخاطب کر کے دو باتیں کہتا ہوں جو گئے نہیں اور نہ جانے کیلئے تیار ہوئے ہیں مگر ہماری جماعت میں شامل ہیں۔اول یہ کہ اگر وہ کسی عذر کی وجہ سے مثلاً خرچ نہ ہونے کی وجہ سے یا بیمار ہونے کے باعث یا یہاں کسی ایسی خدمت کے سپرد ہونے کے سبب کہ وہ بھی دین کا ہی کام ہے اور اس سے فراغت نہیں ہو سکتی جو لوگ نہیں جاسکتے وہ بھی جانے والوں کے ساتھ ثواب میں شامل ہیں۔ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داماد کو جنگ پر جانے سے اس لئے روک دیا کہ آپ کی بیٹی بیمار تھی اور اس کی خبر گیری ضروری تھی۔یہ بات اس کو شاق گزری تو آپ نے فرمایا تم بھی ثواب میں ایسے ہی شریک ہو جیسے جنگ پر جانے والے 3 گو یہ دنیاوی کام تھا جس کی وجہ سے اسے پیچھے رہنا پڑا لیکن چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ماتحت تھا اس لئے وہ بھی ثواب میں شریک سمجھا گیا۔اسی طرح وہ لوگ جو ہمارے حکم سے رہ رہے ہیں ان کو بھی ایسا ہی ثواب ملے گا جیسا وہاں جانے والوں کو۔کیونکہ در حقیقت ثواب اطاعت میں ہے نہ کہ اپنی مرضی کے ماتحت کوئی کام کرنے میں۔دوسرے یہ کہ جنہوں نے ابھی تک اپنے آپ کو پیش نہیں کیا اور غفلت سے رہ گئے ہیں وہ دیکھیں کہ ان میں اور ان میں جو وہاں کام کر کے واپس آئے ہیں کیا فرق ہے۔کیا وہ کنگال ہو گئے ہیں اور یہ مالدار بن گئے ہیں؟ کیا ان کی جائیدادیں ضائع ہو گئی ہیں اور انہوں نے اپنی جائیدادیں بڑھالی ہیں ؟ کیا وہ کمزور اور نحیف ہو گئے ہیں اور یہ طاقتور اور زور آور بن گئے ہیں؟ کچھ بھی نہیں ہوا۔دنیاوی لحاظ سے وہ بھی ویسے ہی ہیں جیسے یہ مگر دینی لحاظ سے خدا کے خاص فضل کے وارث ہو گئے ہیں اور دوسروں کو نہ دنیا کا فائدہ ہوا نہ آخرت کا۔اور ان کی مثال وہی ہے کہ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے اب میں ان کو مخاطب کرتا ہوں جو واپس آئے ہیں اور ان کو بتاتا ہوں کہ بعض کام