زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 166

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 166 جلد اول فرمایا سنو کسی وادی میں سے تم نہیں گزرتے کہ کچھ ایسے لوگ ہیں جو مدینہ میں رہتے ہوئے تمہارے ساتھ نہیں ہوتے، کسی لڑائی میں تم شامل نہیں ہوتے کہ وہ اس میں شریک نہیں ہوتے اور تمہارے لئے کوئی اجر نہیں جس میں ان کا حصہ نہ ہو۔صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! یہ کس طرح؟ فرمایا اس لئے کہ وہ لوگ عذر اور مجبوری کی وجہ سے پیچھے رہتے ہیں ورنہ ان کے دل تمہارے ساتھ ہوتے ہیں۔1 پس وہ جو کسی عذر کی وجہ سے پیچھے رہ گئے وہ ان کے ساتھ شریک ہو سکتے ہیں جو میدان میں کام کرنے کے لئے گئے جبکہ ان کے دل ان کے ساتھ شریک ہوں وہ ان کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں جبکہ دعا ئیں ان کے ساتھ پھر رہی ہوں۔اس لئے ایک نصیحت تو میں ان لوگوں کو جو نہیں جا سکے یہ کرتا ہوں کہ جانے والوں کو کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔دوسرے آنے والوں کی مثال دے کر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے ابھی تک اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش نہیں کیا ان میں سے کئی ایسے ہوں گے جو سمجھتے ہوں گے کہ شاید ہم یہ کام کرسکیں یانہ اور خود ان میں سے بھی بعض کو یہی شک ہوگا جو واپس آگئے ہیں مگر جب وہ گئے اُس وقت سے اب بہتر حالت میں آئے ہیں۔اس تین ماہ کے عرصہ میں اگر وہ یہاں رہتے تو آج جو حالت ان کی ہے اس کی بجائے کیا ہوتی۔اس میں کوئی فرق نہ ہوتا۔مگر آج جبکہ وہ واپس آئے ہیں اُس حالت سے ان کی حالت بہتر ہے۔کیونکہ اگر نہ جاتے تو ان کی حالت یہ ہوتی کہ خدا کے وعدہ کو پورا کرنے کے منتظر ہوتے مگر اب ایسے ہیں کہ فَمِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ 2 جنہوں ن نے خدا کے وعدہ کو پورا کر دیا ہے۔اگر نہ جاتے تو ان کی حالت میں کچھ فرق نہ ہوتا اور اگر گئے تو دنیاوی لحاظ سے ان کا کوئی ایسا نقصان نہیں ہوا جو نا قابل تلافی ہو۔مگر جانے پر خدا تعالیٰ کی رضا زائد حاصل ہوگئی جو اگر یہاں رہتے تو حاصل نہ ہو سکتی۔اس بات کی طرف توجہ دلا کر میں اُن لوگوں کو جو ابھی جانے کے لئے تیار نہیں ہوئے بلکہ سوچ رہے ہیں کہتا ہوں دیکھ لو جانے والوں کو کیا نقصان پہنچا ؟ کچھ بھی نہیں۔ہاں ثواب کے مستحق ہو گئے۔بہت لوگ ہوتے ہیں جو بزدلی اور تردد کی وجہ سے ثواب کے ނ