زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 165
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 165 جلد اول جھکتا اخلاص ہو کچھ نہیں ہوسکتی۔میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا حضرت مسیح ایک نہایت سفید چبوترے پر اس طرح کھڑے ہیں کہ ایک پاؤں اوپر کی سیڑھی پر ہے اور ایک چلی پر۔اور آسمان کی طرف اس طرح ہاتھ پھیلائے ہیں گویا کچھ مانگ رہے ہیں۔اُس وقت آسمان سے ایک شکل اترنی شروع ہوئی جو عورت کی شکل تھی۔اس کے لباس کے ایسے ایسے عجیب رنگ تھے جن میں سے بعض دنیا میں کبھی دیکھے ہی نہیں گئے۔اس کو دیکھ کر میں نے سمجھا کہ حضرت مریم ہیں۔جب وہ نیچے پہنچی تو اس نے حضرت مسیح کے اوپر اپنے بازو پر کی طرح پھیلا دیئے اور جیسے ماں بچہ کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھتی ہے اسی طرح اپنے ہاتھ حضرت مسیح کے سر پر رکھ دیئے اور پیار سے بے مثال محبت کے ساتھ اس کی طرف جھک گئی اور حضرت میسیج بھی اس کی طرف اس طرح جھک گئے جس طرح بچہ پیار لینے کے لئے ماں کی طرف ہے۔وہ نظارہ ایسا لطیف اور قلب پر اثر کرنے والا تھا کہ میرے سارے جسم کے روم روم میں اثر کر گیا اور اُس وقت یہ فقرہ میری زبان سے جاری ہو گیا Love Creates love محبت کا بدلہ محبت ہی ہے یعنی محبت کی قیمت یہی ہے کہ جس سے محبت کی جائے اس کے دل میں محبت پیدا ہو جاتی ہے۔وہ مریم کیا تھی میرے نزدیک وہ محبت کی وہ تمثال تھی کہ جب انسان کے دل میں خدا کی محبت پیدا ہوتی ہے تو اس کے لئے آسمان سے نازل ہوتی ہے اور مسیح ہر وہ انسان ہے جو خدا تعالیٰ کی خاطر اور اس کے دین کی خدمت کے لئے گھر سے نکلتا ہے۔چونکہ محبت کا بدلہ خود وہی وجود ہوتا ہے جس سے محبت کی جاتی ہے اس لئے جو شخص خدا کے لئے اخلاص کے ساتھ گھر سے نکلتا ہے اس کو کوئی بندہ کس طرح بدلہ دے سکتا ہے۔بندہ تو اسے خواہ اپنا سب کچھ بھی دے دے تو بھی حق ادا نہیں کر سکتا۔پس کوئی انسان نہ تو کسی کے اخلاص کا اندازہ لگا سکتا ہے اور نہ اخلاص کا بدلہ دے سکتا ہے۔لیکن ایک بات ہم کر سکتے ہیں اور وہ یہ کہ جو لوگ خدمت دین کے لئے نکلے ان کے لئے دعائیں کر سکتے ہیں اور اس طرح ان کے کام میں شریک ہو سکتے ہیں۔رسول کریم وہ ایک دفعہ جب جنگ کو جارہے تھے تو