زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 164

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 164 جلد اول مجاہدین علاقہ ارتداد کے ورود قادیان پر حضور کا خطاب 2 جولائی 1923ء کو مبلغین کا وہ وفد جو علاقہ ارتداد میں اپنا عرصہ ختم کر چکا تھا 9 بجے کے قریب قادیان پہنچا۔قصبہ سے باہر مدرسہ احمدیہ اور ہائی سکول کے طلباء مع اساتذہ اور دیگر اصحاب بڑی تعداد میں جمع تھے جنہوں نے اھلاً و سھلاً کے بلند نعروں کے ساتھ وفد کا استقبال کیا۔وفد آگے آگے اور باقی سب اصحاب ان کے پیچھے قصبہ میں داخل ہوئے۔ارکان وفد سیدھے مسجد مبارک میں آئے اور وضو کر کے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے حضور پیش ہوئے۔حضور نے ہر ایک سے مصافحہ کیا۔اس کے بعد آنے والے اصحاب نے دو دو رکعت نماز ادا کی۔اس موقع پر حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کر کے حسب ذیل تقریر فرمائی۔وو ” وہ وفد جو اس وقت کے حالات کے ماتحت پہلا وفد تھا کہ گو اس سے بھی پہلے بعض جماعتیں ملکانوں کی طرف جا چکی تھیں یہ وفد اس لحاظ سے پہلا تھا کہ جو پہلے وفد گیا تھا اس کے متعلق خیال تھا کہ موقع اور محل کی تحقیق کرے گا۔اس وفد کے متعلق میں نے اسی جگہ تقریر کی تھی اور کہا تھا کہ جو آج ہی جانا چاہے وہ روانگی کے لئے تیار ہو جائے۔اُس وقت جس قدر آدمیوں کی ضرورت تھی اس سے زیادہ نے اپنے آپ کو پیش کیا اور پیشتر اس کے کہ اس دن کی شام ہوتی ان کو ہم نے یہاں سے روانہ کر دیا۔جانے والے لوگ جس نیت اور جس ارادہ سے گئے اور جس رنگ میں انہوں نے خدا کے دین کی خدمت کے لئے کام کیا اس کا بدلہ تو اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے اور اسی سے یہ معامله تعلق رکھتا ہے۔نہ تو ہم میں سے کسی کی طاقت ہے کہ ان کے اخلاص کا اندازہ لگائے اور نہ یہ طاقت ہے کہ اس کی قیمت ادا کر سکے کیونکہ اخلاص کی قیمت سوائے اس کے جس سے