زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 161
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 161 جلد اول گیارھویں نصیحت یہ ہے جو کام کرو اس کی یاد داشت رکھو اور افسر کو باقاعدہ اطلاعات دو۔خواہ روزانہ خواہ ہفتہ وار۔اس نوٹ بک کا فائدہ آئندہ کام کرنے والے مبلغوں کو بھی ہوگا۔اس کے بعد میں اس مضمون کی طرف آتا ہوں کہ ہمارے جو بھائی پہلے گئے وہ کس حال میں گئے تھے، انہوں نے وہاں کیا کام کیا اور کس طرح انہوں نے آریوں کی سولہ سالہ محنتوں کا مقابلہ کیا۔جب ہمارے آدمی گئے ہیں تو وہ ایسا وقت تھا جب کہ شردھانند صاحب نے علی الاعلان کہا تھا کہ ملکا نہ لوگ پیاسے پرند کی طرح چونچ کھولے بیٹھے ہیں کہ ان کے منہ میں کوئی پانی چوائے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ جائیں اور ان کو ہندو دھرم میں ملا لیں۔اس وقت مسلمانوں کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ملکانوں کی آبادی کہاں کہاں ہے۔صرف ہدایت الاسلام کو چند دیہات کا علم تھا اور وہ اس کو چھپائے بیٹھی تھی۔مسلمانوں کو نہیں معلوم تھا کہ کن کن ضلعوں میں ان کی آبادی ہے اور ریلوے کہاں تک ہے اور راستے کیا ہیں۔حالانکہ وہ بہت وسیع علاقہ تھا۔ملکا نہ علاقہ اسی طرح ہے جیسے جالندھر، لاہور، راولپنڈی وغیرہ کی کمشنریوں کو ملا دیا جائے۔پھر یو۔پی کی آبادی بھی پنجاب سے زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔پچاس میل کے علاقہ میں وہ پھیلے ہوئے ہیں۔اس کی مثال ایسی ہی سمجھو کہ اگر کوئی شخص یہ معلوم کرنا چا ہے کہ پنجاب میں سید کہاں کہاں ہیں تو اس کے لئے کتنا مشکل کام ہے۔بعض علاقوں میں ریل کم ہے یا نہیں ہے۔ایسی حالت میں ہمارے بھائی وہاں گئے اور ان میں سے بعض نے ستر ستر میل کا پیدل سفر طے کیا۔گویا وہ ہیں ہیں گھنٹے چلتے رہے ہیں۔اور پھر جب وہ گئے تو بعض علاقوں میں ان کو ڈاکو خیال کیا گیا۔بعض میں خیال کیا گیا کہ یہ ان کے بچے بھگا لے جائیں گے۔اس حالت میں وہ ان کی بات کب سن سکتے تھے۔وہ بجائے ان کی بات سننے کے ہر وقت ان کی حرکات پر ہی نظر رکھتے ہوں گے۔پھر اجنبیت وغیرہ کی وجہ سے بعض مقامات سے ہمارے مبلغوں کو نکال بھی دیا گیا۔وہ کئی کئی دن سڑکوں پر پڑے رہے اور ان کو فاقے کرنے پڑے۔بعض کو