زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 160

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 160 جلد اول میری آٹھویں نصیحت یہ ہے کہ دعاؤں پر خصوصیت سے زور دو جو کام دعا سے ہوسکتا ہے وہ اور کسی ذریعہ سے نہیں ہو سکتا۔دوست و آشنا جدا ہوں گے مگر خدا جدا نہ ہوگا۔ایک میاں اور بیوی خواہ ایک چار پائی پر لیٹے ہوئے ہوں اور بیوی کے پیٹ میں قولنج کا درد ہو تو قبل اس کے کہ وہ اپنے خاوند کو اطلاع دے اس کی دعا کو خدا سنے گا اور اس کی تکلیف کو دور کر دے گا۔کیونکہ وہ علیم ہے۔اس نے اپنے علم سے وہ سامان کر رکھے ہیں جو اس مرض کو دور کر سکتے ہیں۔پس خدا سے دعا کرو اور اسی پر بھروسہ کرو۔سامان بھی اسی کے فضل سے میسر آتے ہیں۔نویں نصیحت یہ ہے کہ مؤمن ہوشیار ہوتا ہے۔مخالف کو وہ جواب دو جو مخاطبوں کے لئے مفید ہو۔ایک جگہ ملکانوں میں آریوں نے اعتراض کیا کہ اسلام تو وہ مذہب ہے جو بہن بھائی کی شادی کرا دیتا ہے ( چاتایا کے بچوں کی ) اب اگر ایسے موقع پر علمی طور پر بحث کی جائے تو کم مفید ہوگی اس لئے ہمارے دوستوں نے اللہ کے فضل سے یہ جواب دیا کہ اسلام میں تو بہن بھائیوں کی شادی نہیں ہوتی البتہ ہندو مذہب میں ہوتی ہے کیونکہ تناسخ میں ممکن ہے بہن یا کوئی اور قریبی رشتہ دار ا گلے جنم میں بیوی بن جائے۔پس وہ بات کرو جو مخاطب کے لئے مفید ہو ، غلط نہ ہو ، اسلام کے مطابق ہومگر ہوایسی عام فہم کہ سننے والوں کے لئے مفید ہو۔دسویں نصیحت یہ ہے کہ ہمدردی سے جو کام ہو سکتا ہے وہ بغیر ہمدردی کے نہیں ہو سکتا لیکن ہمدردی کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تم ان میں آئندہ کے لئے کوئی لالچ پیدا کر دو۔بلکہ یہ ہیں کہ ان کی ضرورت کے وقت جس قدر تم مدد کر سکتے ہو کر و۔جسمانی طور پر امداد دو۔اور اگر تمہارے پاس کچھ ہو تو جس طرح اپنے وطن میں غرباء کی امداد ضرورت کے وقت کرتے ہو ان کی بھی کرو۔آئندہ کے لئے کوئی وعدہ نہ کرو کہ ہم یہ کریں گے اور وہ کریں گے کیونکہ لوگوں نے ان کو لالچ دے کر خراب کر دیا ہے۔اگر ہم بھی وعدہ دیں گے اور اس سے ان میں لالچ پیدا ہو گا تو ان کی اصلاح مشکل ہو جائے گی۔