زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 159
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 159 جلد اول آریوں نے کہا کہ مولوی صاحب! یہ برادری کا معاملہ ہے آپ ہی ان کو سمجھائیں کہ مان جائیں۔ان کا ایک بھائی باہر گیا ہوا ہے وہ آئے تو ہم اپنی برادری کو ملالیں گے اور ہم ان سے اس بات کی معافی لیں گے کہ آج تک ہم نے ان کو اپنے سے علیحدہ رکھ کر ان پر ظلم کیا۔مستری صاحب نے ملکانوں کو کہا کہ وہ آپ کے بھائی صاحب کہاں گئے ہیں ان کو بلاؤ تا کہ پنڈت جی کی بات پر غور کریں۔ملکانوں نے کہا وہ بھائی تو آپ ہی ہیں اور اس پر انہوں نے صحیح فیصلہ کیا۔آگے بحث لمبی ہے اس کے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔غرض یہ میل ملاپ کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے ملکانوں پر یہ اثر پیدا کر لیا ہے خواہ وہ کتنے ہی دور بھاگنے والے لوگ ہوں ان کو آہستہ آہستہ میل ملاپ کے ذریعہ درست کر لیا جا سکتا ہے۔پانچویں نصیحت یہ ہے کہ بار بار مرکز کو نہ چھوڑو۔اجنبیت یا لوگوں کی بے رخی وغیرہ سے گھبرانا فضول ہے۔ساری عمر میں سے یہ صرف 90 دن ہیں جو دین کے لئے وقف کئے گئے ہیں۔اگر ان کو بھی یونہی کھو دو گے تو پھر یہ فعل کس طرح پسندیدہ ہو سکتا ہے۔ہاں جو پاس کے گاؤں ہوں ان میں ضرور جاؤ لیکن بغیر خاص حکم یا نہایت اشد ضرورت کے اپنے مرکز کو ہرگز نہ چھوڑو۔میری چھٹی نصیحت یہ ہے کہ جس گاؤں میں تم متعین ہو اس کے اردگرد کے گاؤں کو بھی اپنا ہی علاقہ سمجھو۔ہمارے پاس اتنے آدمی نہیں کہ ہر ایک چھوٹے بڑے گاؤں میں ایک ایک مبلغ لگا دیں اس لئے تم جس مرکزی گاؤں میں مقیم ہو اس کے اردگرد علاقوں میں ضرور جاؤ۔اگر اس گاؤں میں کوئی کام نہ ہو تو سیر کے لئے ہی چلے جاؤ اور وہاں کے متعلق واقفیت بہم پہنچاؤ۔ساتویں نصیحت یہ ہے کہ چونکہ وہاں پر آریوں کے ایجنٹ ہیں جو مبلغوں کو غفلت میں ڈال کر اپنا کام کرنا چاہتے ہیں اس لئے ان سے بالخصوص ہوشیار رہو۔تم کسی پر اگر خدا کے لئے شبہ کرو گے تو ثواب کے مستحق ہو گے اور وہ شخص اگر بدنیت نہیں ہوگا نیک ہوگا تو اس کو اس لئے ثواب ہوگا کہ اس پر خدا کے لئے شبہ کیا گیا۔