زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 151
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 151 جلد اول تم اس کے دشمن نہیں ہو بلکہ تم باوجود اس کی عداوت کے اس کے خیر خواہ ہو کیونکہ تم کو خدا تعالیٰ نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے مقرر فرمایا ہے۔اگر کوئی مار بھی بیٹھے تو اس کی پرواہ نہ کرو۔یاد رکھو کہ لوگ بزدل کو حقیر جانتے ہیں اور وہ فی الواقع حقیر ہے۔لیکن تکلیف اٹھا کر صبر کرنے والا اور اپنے کام سے ایک بال کے برابر نہ ہٹنے والا بزدل نہیں وہ بہادر ہے۔بزدل وہ ہے جو میدان سے بھاگ جاتا یا اپنی کوششوں کوست کر دیتا ہے۔جو مار کھاتا اور صبر کرتا اور اپنے کام کو جاری رکھتا ہے وہی درحقیقت بہادر ہے۔کیونکہ بہادری کا پتہ تو اسی وقت لگتا ہے جب اپنے سے طاقتور کا مقابلہ ہو اور پھر بھی انسان نہ گھبرائے۔(34) میں نے بار بار آہستگی کی تعلیم دی ہے۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مہینوں اور برسوں میں کام کرو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قدم بقدم چلو۔جب قدم مضبوط جم جائے تو پھر دوسرے قدم کے اٹھانے میں دیر کرنا اپنے وقت کا خون کرنا اور اپنے کام کو نقصان پہنچانا ہے۔اگر گھنٹوں میں کام ہوتا ہے تو گھنٹوں میں کرو۔اگر منٹوں میں کام ہوتا ہے تو منٹوں میں کرو۔صرف یہ خیال کرلو کہ اس کی رفتار ایسی تیز نہ ہو کہ خود کام ہی خراب ہو جائے یا آئندہ کام پر اس کا بداثر پڑے۔(35) ایسے علاقوں میں رات نہ گزارو جہاں فتنہ کا ڈر ہو۔اگر وہاں رات بسر کرنی ضروری ہو تو شہر میں نہ رہو۔شہر سے باہر کسی پرانے مکان یا کسی جھونپڑے میں یا پاس کے کسی گاؤں میں رہو۔صبح پھر وہیں آ جاؤ۔یہ بزدلی نہیں حکمت عملی ہے۔(36) اس عرصہ میں اگر پرانے ہندوؤں کو تبلیغ کر سکو تو اس موقع کو بھی ہاتھ سے جانے نہ دو۔مگر سوائے ان لوگوں کے جن کا کام بحث کرنا مقرر کیا گیا ہے دوسرے لوگ بحث کے کام میں حصہ نہ لیں بلکہ فردا فردا اور الگ الگ تبلیغ کریں۔(37) ارد گرد کے ہندوؤں کے خیال معلوم کر کے جو شدھی کے برخلاف ہوں ان میں بھی غیر معلوم طور پر اس تحریک کے خلاف جوش پیدا کرنے کی کوشش کرو۔