زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 147

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 147 جلد اول سمجھا ئیں کہ ان کا ہندو ہونا نہ صرف ہمارے دین کے لئے مضر ہوگا بلکہ اس کا یہ نتیجہ بھی ہوگا کہ ہندو آگے سے زیادہ طاقتور ہو جائیں گے اور مسلمانوں کو سخت نقصان | پہنچا ئیں گے۔ب۔یہ بھی سمجھا ئیں کہ اس فتنہ کو سختی سے نہیں روکا جا سکتا اور سختی سے روکنے کا فائدہ بھی کچھ نہیں۔پس چاہئے کہ محبت کی دھار سے ان کی نفرت کی کھال کو چیرا جائے اور پیار کی رسی سے ان کو اپنی طرف کھینچا جائے۔(22) وہ لوگ غیر تعلیم یافتہ ہیں۔پس کبھی ان سے علمی بحثیں نہ کرو بالکل چھوٹی موٹی باتیں ان سے کرو۔موٹی موٹی باتیں یہ ہیں۔آریہ مذہب کے بانی نے کرشن جی کی (جن کی وہ اپنے آپ کو اولاد کہتے ہیں اور ان سے شدید تعلق رکھتے ہیں ) جو بڑے بزرگ تھے ، ہتک کی ہے۔نیوگ کا مسئلہ خوب یاد رکھو اور ان کو سمجھاؤ کہ تم راجپوت ہو کر ایسی تعلیم کے پیچھے جا سکتے ہو۔مرکز میں ستیارتھ پرکاش رہے گی اگر حوالہ مانگیں تو دکھا سکتے ہو۔ان کو بتایا گیا ہے کہ تمہارے آباء واجداد کو ز بر دستی مسلمان کر لیا گیا تھا۔ان سے کہو که راجپوت تو کسی سے ڈرتا نہیں۔یہ بالکل جھوٹ ہے اس بات کو ماننے کے تو یہ معنے ہوں گے کہ تمہارے باپ دادا راجپوت ہی نہ تھے۔کیا اس قد رقوم راجپوتوں کی اس طرح دھرم کو خوف یا لالچ سے چھوڑ سکتی تھی ؟ کہو کہ یہ بات برہمنوں نے راجپوتوں کو ذلیل کرنے کے لئے بنائی ہے۔پہلے ان لوگوں نے تمہاری زمینوں کو سود سے تباہ کیا اب یہ لوگ تمہاری قومی خصوصیت کو بھی مٹانا چاہتے ہیں۔یہ بنے تو اپنے ایمان پر قائم رہے اور تم راجپوت بہادر ہو کر بادشاہوں سے ڈر گئے ؟ یہ جھوٹ ہے۔تمہارے باپ دادوں نے اسلام کو سچا سمجھ کر قبول کیا تھا۔ان کو کہا جاتا ہے کہ تم اپنی قوم سے آملو۔ان کو سمجھاؤ کہ لاکھوں راجپوت مسلمان ہو چکے ہیں۔پس اگر ملتا ہے تو یہ ہند و مسلمان ہو کر تم سے مل جاویں۔اور یہ ملاپ کیسا