زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 131

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 131 جلد اول غرض اگر ایک دربان بادشاہ کا حکم ماننے کے باعث تھوڑی دیر مار کھانے سے معمولی دربان سے امیر اور نواب بن سکتا ہے تو کیا اگر ہم خدا کے لئے کوڑے کھائیں اور دشمنوں سے دیکھ دیئے جائیں اور پھر مقابلہ نہ کریں تو خدا ہمیں اجر نہیں دے گا ؟ ضرور دے گا۔پس ماریں کھاؤ اور مارنے والوں کے لئے دعائیں کرو سختی کا جواب سختی سے نہ دو کہ یہ ہمارے اغراض کے منافی ہے۔لوگوں میں روحانیت اور محبت سے اشاعت کرو، اللہ پر بھروسہ کرو، دعائیں کرو۔دعا استخارہ داخلہ شہر میں پہلے بتا چکا ہوں۔بھائی جی لکھ دیں گے جن کو یاد نہیں۔اس دعا کا مفہوم یہ ہے کہ اے خدا! جو سات آسمانوں اور سات زمینوں کا رب ہے اور ان کا جو ان کے نیچے اور اوپر ہیں ہمیں یہاں کے شروں اور فقتوں سے بچا۔یہاں نیکیوں کی محبت ہمارے دل میں ڈال اور ہماری محبت ان کے دل میں ڈال۔یہاں کی کی برکتوں سے ہمیں حصہ دے۔یہ مبارک اور جامع دعا ہے جس کا بارہا تجربہ ہوا۔یہ دعا نہایت مفید ہے اس لئے اس دعا کو خاص طور پر پڑھا کرو۔جب شہر میں داخل ہو علاوہ اپنے کام کے ان بھائیوں کے لئے بھی دعا کرو جو دیگر ممالک میں تبلیغ کر رہے ہیں اور ان کے لئے جو کسی مجبوری کے باعث فی الحال نہیں جا سکے۔جو کمزور ہیں اللہ تعالیٰ ان کی کمزوریاں دور کرے۔قاعدہ ہے کہ جب عزیز جدا ہوں تو تحفہ دیا جاتا ہے۔میں نے سوچا کہ کیا تحفہ ہونا چاہئیے ؟ میرے خاندان کے لوگوں نے 43 روپے بطور صدقہ دیئے ہیں جو راستہ میں خیرات بھی کئے جائیں اور وہاں کی بعض خاص دینی ضروریات میں بھی صرف کئے جائیں۔“ اس پر موجودہ احباب نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اس میں حصہ لیا۔یہ رقم دوسو روپیہ کے قریب ہو گئی جو امیر وفد کے سپر د کر دی گئی۔(الفضل 2، اپریل 1923ء) 1: الفاتحة : 2