زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 124
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 124 جلد اول کھڑا ہو پھر کسی کے عیب کو پکڑے۔میں تو جو کچھ کرتا ہوں محبت سے کرتا ہوں۔میرا خو بھی محبت ہے اور میری ناراضگی بھی محبت ہے اور میری خفگی بھی محبت ہے۔کیونکہ میں رحمت میں پلا اور رحمت میں پرورش پائی اور رحمت مجھ میں ہوگئی اور میں رحمت میں ہو گیا۔انسانی ہمدردی خوب یا درکھیں کہ ایمان بلا ہمدردی نہیں لیکن ہمدردی بلا ایمان کے ہو جاتی ہے۔پس مبلغ کا قدم نہایت نازک مقام پر ہے۔وہ بلا ہمدردی ایمان سے محروم رہا جاتا ہے اور ایک بے ایمان شخص ہمدردی کی وجہ سے ایمانداروں میں شامل کیا جاتا ہے اور اس طرح پر دہرا نقصان اٹھا رہا ہے۔خود ایمان سے محروم ہوتا ہے اور لوگوں کو ایمان سے محروم کرا دیتا ہے کیونکہ لوگ اس کی روش کو دیکھ کر اس کو ایمان سے کو را سمجھ لیتے ہیں۔اور ایک دوسرے کو مذہب میں ہمدردی کا مادہ پا کر اسے ایماندار خیال کر لیتے ہیں۔پس چاہئے کہ مبلغ اسلام نہایت ہمدرد ہو۔صرف نام سے نہیں بلکہ کام سے۔اس کے الفاظ اور اس کے کام بلکہ اس کی آنکھیں اس کی ہمدردی کو ظاہر کر رہی ہوں۔یہ نہ خیال کریں کہ معاملہ خدا سے ہے وہ دل کو جانتا ہے۔بے شک خدا دل کو جانتا ہے مگر خدا نے انسان کی بعض صفات کو ایسا بنایا ہے کہ جب تک ان کا اظہار نہ ہو ان سے لوگ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔اور جب لوگ فائدہ نہیں اٹھا سکتے تو پھر ان کا فائدہ کیا۔پس یہ خیال ایک شیطانی خیال ہے اور جس طرح پریا ایک گناہ ہے اسی طرح ان صفات کو عملاً اور قولاً اور شکالا ظاہر نہ کرنا گناہ ہے جن کے اظہار کے بغیر دنیا کو تکلیف پہنچتی ہے یا دنیا حقیقی محبت اور مواسات سے محروم رہ جاتی ہے۔انسان ہر بات سیکھ سکتا ہے یہ کبھی خیال نہ کریں کہ فلاں بات مجھ میں نہیں ہے۔کوئی بات نہیں جس کا سیکھنا انسان کے لئے ضروری ہو اور وہ اسے سیکھ نہ سکے۔بے شک کمی یا زیادتی کا فرق ہوگا مگر ہر ایک جذبہ ہر ایک انسان میں موجود ہے اور وہ کوشش سے ترقی کر سکتا ہے۔یہ وسوسہ کہ فلاں بات مجھ میں نہیں یہ ایک شیطانی وسوسہ ہے جس کے ذریعہ سے وہ اسے نیکی سے محروم رکھنا چاہتا ہے۔