زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 113

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 113 جلد اول لوگ ہیں جو دین کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دیتے ہیں۔ایسی حالت میں دنیا کو فتح کرنے کا ہمارا خیال بچہ کے بھینس کو اٹھانے کے خیال سے بھی بہت بڑا خیال ہے اور ایسا ہی ہے جیسا کہ سورج سے کھیلنے ، چاند کو پکڑنے کا خیال ہو۔جس طرح یہ ناممکن ہے اور جنون کی علامت ہے اسی طرح ہمارا یہ خیال بظا ہر نظر آتا ہے کہ ہم دنیا کو فتح کرلیں گے اور پھر تلوار سے جسموں کو نہیں جیسا کہ بادشاہ کر لیا کرتے ہیں بلکہ دلوں کو ، رسوم کو ، خیالات کو ، تمدن کو ، معاشرت کو بدل دیں گے۔حالانکہ یہ تو ساری دنیا کے بادشاہ بھی مل کر نہیں کر سکتے۔کجا ہم ماتحت لوگ یا بالفاظ دوسرے لوگوں کے انگریزوں کے غلام کریں۔پس ہمارا یہ دعویٰ بہت بڑا دعویٰ ہے اور ہماری کمزوریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بہت بڑا دعویٰ ہے۔اس صورت میں اگر ہم سے کچھ کام ہو جائے، ہمیں کوئی کامیابی حاصل ہو جائے تو یہی سمجھنا چاہئے کہ یہ ہماری کمزوری ہمارے انکسار کا نتیجہ ہے یا ہماری کمزوریوں پر خدا نے رحم کیا ہے۔لیکن جب کام ہو جائے اور سمجھا جائے کہ ہم نے خود کیا ہے تو ہم سے زیادہ احسان فراموش کوئی نہیں ہو گا۔مگر کہنا پڑتا ہے کہ ایسے لوگ ہیں جو ایک حد تک کام کرتے ہیں اور جب کچھ کام ہو جاتا ہے تو اپنی قدر و منزلت کی امید رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگ اس کام کی وجہ سے ان کے آگے جھکیں۔اس وقت ان کے سینہ سے ایمان نکل رہا ہوتا ہے اور نہایت خطر ناک مرحلہ پر پہنچے ہوتے ہیں۔میں دعا کرتا ہوں ایسے لوگوں کے لئے اور دوسروں کے لئے بھی کہ ان میں ہر وقت یہی احساسات رہنے چاہئیں کہ ہم کمزور اور ناطاقت ہیں ہم سے کچھ نہیں ہوا۔جو کچھ ہوا خدا کے فضل سے ہوا۔اور یہ احساسات تمہارے مرنے تک رہنے چاہئیں۔اگر اسی حالت میں مرو تو یقیناً ایمان دار مرو گے۔پس یہ جذبات صحیح جذبات ہیں اور ہر انسان میں پیدا ہوتے ہیں مگر ضرورت ان کے قائم رکھنے کی ہے۔تم ان جذبات کو قیمتی ہیروں کی طرح سمجھو اور پوری طرح حفاظت سے رکھو۔تمہارے ہاتھ کٹ جائیں، دانت ٹوٹ جائیں مگر کوئی چیز ان کو تمہارے ہاتھ سے نہ چھڑا سکے۔جس طرح ماں بچہ کو خطرہ کے وقت اپنے سے جدا نہیں ہونے دیتی اسی طرح تم