حضرت زینبؓ بنت خزیمہ — Page 4
اُم المساکین حضرت زینب بنت خزیمہ 4 اکثر تاریخ لکھنے والوں نے لکھا ہے کہ حضرت زینب کا پہلا نکاح عبیدہ بن الحارث سے ہوا۔آپ نے ان کے ساتھ ہی مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔جب وہ غزوہ بدر میں شہید ہو گئے تو دوسرا نکاح حضرت عبداللہ بن جحش سے ہوا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے (4) اور اسلام کے عظیم مجاہد بھی تھے۔3 ہجری میں حضرت عبد اللہ بن جحش نے غزوہ احد کے موقع پر لڑائی سے پہلے یہ دعا مانگی۔” اے خالق کون و مکاں ! مجھے ایسے مدِ مقابل عطا کر جو نہایت شجاع اور غضبناک ہوں۔میں تیری راہ میں لڑتا ہوا اس کے ہاتھوں قتل کر دیا جاؤں اور وہ میرے ہونٹ ، ناک اور کان کاٹ ڈالے تا کہ میں تجھ سے ملوں اور تو پوچھے اے عبد اللہ ! تیرے ہونٹ ، ناک اور کان کیوں کاٹے گئے؟ تو میں عرض کروں یا باری تعالیٰ ! تیرے اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے!۔بارگاہ الہی میں ان کی یہ دعائیں قبول ہوئیں اور معرکہ بچا ہوا تو حضرت عبد اللہ بن قش اس جوش سے لڑے کہ تلوار ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھجور کی چھٹری عطا فرمائی جس سے انہوں نے تلوار کا کام لیا اور اسی حالت میں لڑتے ہوئے شہادت نصیب ہوئی۔(5) جنگ اُحد میں ان کے شہادت کا درجہ پانے کے بعد