حضرت زینب ؓ بن جحش — Page 26
حضرت زینب 26 (سچ بولنے کی عادت) کی بہت معترف تھیں کیونکہ ایک موقعہ پر ( واقعہ افک ) پر جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب سے حضرت عائشہ کے متعلق پوچھا تو آپ نے صاف لفظوں میں کہا کہ "یا رسول اللہ ﷺ خدا کی قسم۔میں عائشہ کے متعلق سوائے خیر ! و اور بھلائی کے کچھ نہیں جانتی۔“ (12) حضرت زینب کو معلوم تھا کہ حضرت عائشہ میری سوکن ( یعنی اپنے شوہر کی دوسری بیوی ہیں اور وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ حضرت عائشہ آپ ﷺ کو سب سے زیادہ پیاری ہیں۔آپ چاہتیں تو اُس وقت کوئی کلمہ ایسا کہہ گزرتیں جو حضرت عائشہ صدیقہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں گرانے کا سبب بن سکتا تھا لیکن ان کے صدق و تقوی نے اس کی بھی اجازت نہ دی کہ خاموشی اپنا لیں۔بلکہ پختہ یقین کے ساتھ فرماتی ہیں کہ خدا کی قسم میں تو حضرت عائشہ میں خیر و خوبی اور بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتی۔“ حضرت زینب نہایت قناعت پسند اور فیاض ( کھلے دل سے صدقہ خیرات کرنے والی ) تھیں۔اپنے محبوب خاوند کی طرح یتیموں اور بیواؤں کی خدمت میں راحت ( آرام وسکون ) پاتی تھیں۔آپ کی وفات پر