حضرت زینب ؓ بن جحش — Page 10
حضرت زینب 10 بہت دُکھ اور مایوسی ہوئی کہ مکہ کے حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی تھی۔اُس وقت آج کل کی طرح کی سہولیات تو نہیں تھیں کہ فون پر ساری خبر میں لے لیں یا پھر ٹی۔وی پر ساری دنیا کی خبر میں دیکھ لیں۔بلکہ بڑے مشکل حالات اور مشکل سفر ہوتے تھے۔لوگ پیدل یا اونٹوں پر سفر کرتے تھے اور اس طرح تھوڑا سا فاصلہ بھی طے کرنے کے لئے کئی کئی دن لگ جاتے تھے اور بعض اوقات صحیح خبریں بھی نہیں پہنچتی تھیں۔چنانچہ جب حضرت عبداللہ بن جحش نے یہ دیکھا کہ مکہ کے حالات تو پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے ہیں اور مسلمانوں کے لئے اب اس شہر میں رہنا ممکن نہیں تو انہوں نے پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے اپنے سارے خاندان کو ساتھ لیا اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر گئے۔وہاں کے جن لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تھا انہوں نے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تھی کہ ہمارے شہر میں امن ہے اس لئے آپ ﷺ اور آپ لے کے ماننے والے مومن مسلمان مدینہ آجائیں تو سکون سے رہیں گے۔جب حضرت زینب کے بھائی حضرت عبد اللہ بن جحش اپنے سارے خاندان کے ساتھ مدینہ پہنچے تو مدینہ کے ایک مخلص مسلمان حضرت