حضرت زینب ؓ بن جحش — Page 8
حضرت زینب 8 انہوں نے خوب ستانا شروع کر دیا ، اور بعض اوقات تو غریب مسلمانوں پر بڑے بڑے ظلم کرتے۔یہاں تک کہ کسی غریب مسلمان کو چھپتی ریت پر گھسیٹا جاتا اور کبھی کسی کمزور مسلمان کو چٹائی میں لپیٹ کر دُھواں دیا جا تا کہ بندے کا سانس ہی گھٹ کر بند ہو جائے۔اسی طرح اور بھی بہت سے مظالم تھے جو وہ ان کمزور اور غریب مسلمانوں پر کرتے تھے۔جب مسلمانوں پر ظلم بہت بڑھ گئے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت دے دی۔ہجرت کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی شہر، کسی گاؤں یا کسی بستی میں کسی کو سکھ نہ ملے اور بندہ ہر وقت پریشان رہنے لگے یہاں تک کہ خدا کی عبادت بھی سکون سے نہ کر سکے تو ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے مومنوں کو یہ آسانی دے رکھی ہے کہ ایسے حالات میں وہ کسی ایسی جگہ چلے جائیں جہاں ان کو سکون ملے اور وہ آسانی سے خدا کی عبادت کر سکیں۔الغرض جب مکہ میں قریش نے بہت زیادہ ظلم مسلمانوں پر کرنے رظلموں شروع کر دیئے تو حضرت زینب کا خاندان بھی مکہ کے کافروں کے کا شکار ہونے لگا۔اس وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پھوپھی زاد بہن بھائیوں سے فرمایا کہ وہ لوگ حبشہ ہجرت کر جائیں۔حبشہ ملک کا