ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 69
۵۔نواب صدیق حسن خاں صاحب والی بھو پال نے بہت سے علماء کی مدد اور بڑی محنت سے مسیح و مہدی اور آثار قیامت کے متعلق تحقیق کی ہے۔وہ بڑے پر یقین ہو کر منتظر تھے کہ مسیح و مہدی جلد آئیں اور وہ جناب رسالت مآب سکا انہیں سلام پہنچا ئیں۔وہ لکھتے ہیں:۔این بنده حرص تمام دارد که اگر زمانہ حضرت روح اللہ سلام اللہ علیہ را در یا بم اول کسے کہ ابلاغ سلام نبوی گند من باشم“۔ج الکرامه صفحه ۴۴۹ مطبوعه ۱۲۹۱ هجری) کہ یہ بندہ بڑی خواہش رکھتا ہے کہ اگر زمانہ حضرت روح اللہ (عیسی علیہ السلام کا پاؤں تو پہلا شخص جو انہیں جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچائے وہ میں ہوں۔۔لاکھوں مریدوں کے مرشد۔لدھیانہ کے مشہور بزرگ حضرت صوفی احمد جان حضرت مرز اصاحب کے اعلان بیعت سے پہلے فوت ہو گئے۔وہ زمانہ موجود کو مسیح و مہدی کا زمانہ یقین کرتے تھے۔بلکہ اپنے علم و کشوف کی بناء پر سمجھتے تھے کہ حضرت مرزا صاحب ہی مسیح و مہدی ہوں گے۔بارہا بیعت کی درخواست بھی کی۔ایک دفعہ قصیدہ لکھا اور عرض کیے ہم مریضوں کی ہے تمہی پہ نظر تم مسیحا بنو خدا کے لئے ( تاریخ احمدیت ) ے۔چودھری محمد حسین صاحب ایم۔اے لکھتے ہیں :۔سا ہوگا۔یا رب ! ہمیں اتنی عمر دے کہ ہم اس رحمتہ للعالمین کے نائب کا زمانہ دیکھیں۔یا رب ! ہم پر رحم فرما اور اُسے ابھی بھیج ، اگر یہ وقت اس کے ظہور کا نہیں ، تو اور کون بیا بیا ک نسیم بهار می گذرد * بیا که گل زرخت شرمسار می گذرد که بهارمی ۶۹