ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 67
باب چهارم ظہور امام مہدی کا انتظار تمام مذاہب کی رو سے آخری زمانہ میں ایک موعود کا ظہور مقدر تھا۔قرآن کریم، احادیث نبویہ، بزرگانِ امت اور دیگر علماء ومحد ثین نیز مسلم اکابرین کے بیانات ،غور وفکر ، رو یا وکشوف اور الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی اصطلاح میں وہ موعود اقوامِ عالم ، امام مہدی بن کے ظاہر ہونے تھے۔ان کے ظہور کا زمانہ تیرھویں صدی ہجری یا انیسویں صدی عیسوی کا آخر اور چودھویں صدی ہجری یا بیسویں صدی عیسوی کا آغاز نیز عمر دنیا کے چھٹے ہزار کا آخری اور ساتویں ہزار کا ابتدائی حصہ مقرر تھا۔اس کی تمام علامتوں اور مشن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے عرب سے جانب مشرق ہندوستان میں ظاہر ہونا تھا۔وہ عین وقت پر ملک ہندوستان کی بستی قادیان سے ظاہر ہوا جبکہ مسلم اور غیر مسلم اکابرین کو اس کے ظہور کا بشدت انتظار تھا۔جو آہستہ آہستہ شدید تر ہوتا گیا۔بطور نمونہ کچھ حوالے درج ذیل ہیں:۔مسلم اکابرین کا شدت انتظار (۱)۔اہل سنت و اہل حدیث بزرگوں کے خیالات و بیانات : ۰۹۱ ۳ ہجری میں مولوی شکیل احمد صاحب سہسوانی نے کہا۔دین احمد کا زمانے سے مٹا جاتا ہے نام قہر ہے اے میرے اللہ ! یہ ہوتا کیا ہے { "< }