ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 57
سورج اپنے مقررہ دنوں میں سے درمیانی دن میں کسوف پذیر ہوگا۔اور یہ دونوں خسوف و کسوف رمضان میں ہوں گے۔۔۔۔۔نشان کے طور پر یہ خسوف وکسوف صرف میرے زمانہ میں میرے لئے واقع ہوا ہے۔اور مجھ سے پہلے کسی کو یہ اتفاق نصیب نہیں ہوا کہ ایک طرف تو اس نے مہدی موعود ہونے کا دعوی کیا ہو اور دوسری طرف اس کے دعوی کے بعد رمضان کے مہینہ میں مقرر کردہ تاریخوں میں خسوف و کسوف بھی واقع ہو گیا ہو اور اس نے خسوف وکسوف کو اپنے لئے ایک نشان ٹھہرایا ہو۔(چشمہ معرفت صفحہ ۳۱۴ حاشیہ) اسی طرح آپ کے دو شعر ہیں ؎ آسماں میرے لئے تو نے بنا یا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار یا رو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آپکا یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا یہ علامت یا نشانی حضرت امام مہدی علیہ السلام کی صداقت پر عظیم الشان آسمانی تصدیق ہے۔بارہ تیرہ صدیوں میں یہ علامت بزرگانِ امت بیان کرتے رہے ہیں۔بالآخر حضرت مہدی علیہ السلام نے خدا کی طرف سے علم پا کر قبل از وقت اعلان فرمایا۔آخر کار یہ انسانی طاقتوں سے قطعی بالا نشان خاص خدائی تقدیر سے ۱۳۱۱ ہجری یعنی ۱۸۹۴ ء میں ظاہر ہو گیا۔اس نشان کی اہمیت کے پیش نظر کچھ اور حوالے درج ذیل ہیں جن میں اس نشان کی مزید عظمت و تفصیل بیان ہے:۔۱- الفتاوی الحدیثیہ۔مصنفہ علامہ شیخ احمد شہاب الدین احمد حجر اہیمی۔مطبوعہ مصر صفحہ ۳۱ حج الکرامہ فی آثار القیامہ - از نواب صدیق حسن خان صاحب والی بھوپال ، مطبوعہ ۴۵۷