ظہورِ امام مہدی ؑ

by Other Authors

Page 56 of 97

ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 56

بعض لوگوں کا یہ خیال کہ اس نشان کے مطابق چاند کی پہلی تاریخ اور سورج کی درمیانی تاریخ کو گرہن لگے گا، درست نہیں ہے۔کیونکہ حدیث میں قمر کو چاند گرہن لگنے کا ذکر ہے۔اور از روئے لغت پہلی تاریخ کے چاند کو مر نہیں حلال کہتے ہیں دراصل قانون قدرت کی رو سے چاند اور سورج کے گرہن کی راتیں اور تاریخیں مقرر ہیں۔جیسا کہ نواب صدیق حسن خان صاحب نے لکھا ہے:۔اہل نجوم کے نزدیک چاند گرہن زمین کے سورج کے مقابل آنے سے ایک عام حالت میں سوائے تیرھویں ، چودھویں اور پندرھویں اور اسی طرح سورج گرہن بھی خاصی شکل میں سوائے ستائیسویں ، اٹھائیسویں اور انیسویں تاریخوں کے کبھی نہیں لگتا۔‘ (حج الکرامہ صفحہ ۳۴۴) نشان کا ظہور امام مہدی علیہ السلام کی صداقت پر گواہ یہ عظیم الشان نشان ۱۸۹۴ ء میں اس! ہجری کے رمضان المبارک کی مقررہ تاریخوں تیرھویں اور اٹھائیسویں پر ظاہر ہوا۔( اخبار آزاد ۴ مئی ۱۸۹۴ء) ( سول اینڈ ملٹری گزٹ ۱۶ پریل ۱۸۹۴ء) جب یہ غیر معمولی عظیم الشان نشان ظاہر ہوا اس وقت سید نا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کے سوا کوئی مسیح اور مہدی ہونے کا مدعی نہیں تھا۔اور بموجب فرموده رسول ممکن نہیں کہ مدعی کے بغیر ہی گواہ پیش ہو جا ئیں۔حضرت مرزا صاحب علیہ السلام نے اس نشان کے ظہور پر فرمایا :- ” مہدی موعود کی یہ بھی نشانی ہے کہ خدا اس کے لئے اس کے زمانہ میں یہ نشانی ظاہر کرے گا کہ چاند اپنی مقررہ راتوں میں سے پہلی رات میں گرہن پذیر ہوگا اور ۵۶