ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 52
۱۵۔حافظ محمد یوسف صاحب ضلعدار نہر نے کئی بڑے بڑے جلسوں میں بیان کیا کہ حضرت مولوی عبد اللہ غزنوی نے فرمایا: کہ آسمان سے ایک نور قادیان پر گرا اور میری اولاد اس سے بے نصیب رہ گئی۔“ (تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۳) ۱۶۔حضرت مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ نے مثنوی میں فرمایا ہے۔گفت دانائے برائے داستاں که درختی هست در هندوستاں کہ ایک دانا نے تمثیل کے طور پر کہا کہ ہندوستان میں ایک ایسا درخت ہے جس کا میوہ کھانے والا نہ بوڑھا ہوتا ہے اور نہ اسے موت آتی ہے۔بادشاہ یہ بات سن کر ہندوستان کے اس درخت پر عاشق ہو گیا۔پھر بادشاہ کو ایک درویش ملا جس نے تشریح کی کہ درخت سے مراد علم ہے جو بہت بلند ، وسیع اور زندگی کا پانی ہے۔تو بے خبر ہے جو صورت پر جاتا ہے اور معانی سے بے خبر ہے۔کبھی اس کا نام درخت ہے نبھی سورج کبھی سمندر اور کبھی بادل۔صد ہزاراں نام و آں یک آدمی صاحب ہر وصفش از وصفه عمی یعنی اگر چہ وہ اکیلا آدمی ہے لیکن اس کے لاکھوں نام ہیں۔پھر مزید تشریح اور اس شخص کے اوصاف گنوا کر آخر میں درویش نے کہا: گفت خود خالی نبود است اُمتے از خلیفه حق و صاحب ہمتے کوئی اُمت خدا تعالیٰ کے خلیفہ اور اولوالعزم مرد خدا سے خالی نہیں۔( مثنوی مولاناروم دفتر دوم صفحه ۱۸۱ - ۱۸۲) اس درخت سے مراد در اصل وہی امام مہدی ہے جس نے کہا ع ۴۵۲