یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 98 of 137

یادوں کے نقوش — Page 98

“ 163 اس وقت صدر عمومی جیسے اہم اور جان جوکھوں میں ڈالنے والے عہدہ پر فائز تھے۔خاکسار کو کوارٹرز تحریک جدید کا صدر محلہ منتخب کیا گیا تو ایک بار پھر آپ کے ساتھ اور آپ کی نگرانی میں کام کرنے کا موقعہ مل گیا۔میں نے دیکھا کہ آپ اپنے دواخانہ کی پرواہ کئے بغیر سلسلہ کے کاموں میں ہم تن مصروف رہتے۔جماعتی طور پر ان دنوں حالات سخت خراب اور نا مساعد تھے۔بلکہ متواتر ایسے ہی حالات میں آپ کو کام کرنا پڑا۔مگر آپ نے سب حالات کا بڑی جرأت اور دلیری اور کامل عزم و ہمت کے ساتھ مقابلہ کیا اور جماعتی مفادات کا دفاع کیا۔اس طرح آپ کامل وفاداری اور جان نثاری کے ساتھ سلسلہ کے کاموں میں مصروف عمل رہنے اور محنت اور احساس ذمہ داری کی طویل داستان اپنے پیچھے چھوڑ کر اپنے مولی حقیقی کے پاس حاضر ہو گئے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جنت میں بلند مقام عطا فرمائے۔تین اعزاز (بحوالہ روز نامہ الفضل 8 نومبر 1994 ءصفحہ 3) بحیثیت صدر عمومی آپ کی مخلصانہ خدمات کے صلہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین اہم اعزازات سے نوازا۔1۔1989ء میں حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ نے کچھ عرصہ کیلئے آپ کوامیر مقامی ربوہ مقرر فرمایا۔2۔آپ نے اسیران راہ مولیٰ میں شمولیت کا اعزاز پایا۔3۔آپ کی خدمات کے اعتراف میں آپ کی تدفین قطعہ خاص ( علماء کرام ) میں ہوئی۔جو قابل ذکر خدمات سرانجام دینے والے احباب کی تدفین کیلئے مخصوص ہے۔یہ اعزاز خلیفہ وقت کی طرف سے ہی ملتا ہے۔نیز حضور نے آپ کی وفات کے بعد حضرت کے لقب سے ملقب فرمایا۔ذالک فضل الله يوتيه من يشاء “ سفر آخرت 164 محترم حکیم صاحب اگست 1994ء کے دوسرے ہفتہ میں بغرض استراحت چند یوم کے لئے اسلام آباد تشریف لے گئے۔تا کثرت کار کی وجہ سے کسی قدر دینی، جسمانی اور اعصابی لحاظ سے فراغت کے کچھ لمحات میسر آ سکیں۔لیکن وہاں جاتے ہی آپ کو عارضہ قلب کی شکایت محسوس ہوئی۔ابتداء تو آپ حسب معمول تقویت قلب کی اپنی دیسی ادویات استعمال کرتے رہے مگر جب تکلیف بڑھنے لگی تو فوری طور پر ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ، بالآخر اللہ تعالیٰ کی تقدیر غالب آئی ، آپ 16 اگست 1994ء کی درمیانی شب بوقت اڑھائی بجے ملٹری ہسپتال راولپنڈی میں بعمر 73 سال اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔انا للہ و انا الیه راجعون۔آپ کا جسد خاکی راولپنڈی سے اگلے دن صبح آٹھ بجے روانہ ہوا۔روانگی سے قبل راولپنڈی میں نماز جنازہ پڑھا گیا۔سہ پہر چار بجے جب حضرت مولوی صاحب کا جنازہ ربوہ پہنچا تو اسے آپ کے گھر واقع دارالصدر شمالی میں دیدار عام کیلئے رکھ دیا گیا۔اور اسی دن بعد نماز مغرب بیت مبارک میں محترم مولانا دوست محمد صاحب شاہد مورخ احمدیت نے نماز جنازہ پڑھائی۔جس کے بعد بہشتی مقبرہ قطعہ خاص ( علماء کرام) میں تدفین عمل میں آئی۔قبر تیار ہونے پر محترم سید احمد علی شاہ صاحب نائب ناظر اصلاح وارشاد مرکزیہ نے دعا کرائی۔اس موقع پر باوجود بارش کے ہزاروں احباب جماعت موجود تھے۔سوگواروں کا ہجوم اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ ان کی راہنمائی کیلئے اور انہیں منظم رکھنے کے خیال سے خدام الاحمدیہ کے رضا کار با قاعدہ ڈیوٹیاں دے رہے تھے اور بہت سارے لوگ بوجہ بارش بہشتی مقبرہ میں بھی نہ پہنچ سکے۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ چیئر مین کونسلر، سرکاری وغیر سرکاری افسران اور