یادوں کے نقوش — Page 39
51 555 اور خلافت کی اطاعت کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔وہ بار بار حضور سے معافی مانگتے رہے۔جب حضور نے محسوس فرمایا اب ان صاحب کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے تو خلیفہ وقت کا مقام تو باپ کا ہوتا ہے۔لہذا فرمایا کہ آپ امور عامہ کے توسط سے مدعی فریق کو مبلغ ایک ہزار روپیہ ہر جانہ ادا کریں اور جس سے زیادتی کی ہے اس سے معافی مانگیں۔حضور محترم مولوی بھامبڑی صاحب سے فرمانے لگے شام تک اس فیصلہ کی تنفیذ ہونی چاہئے۔جس کی رپورٹ مجھے آنی چاہئے۔یقین جانئے میری اپنی حالت غیر ہو چکی تھی۔چند منٹ الگ نیچے بیٹھنے کے بعد استغفار کرتا ہوا احمدنگر پہنچ گیا۔میرے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ بات نہ تھی کہ میں نے ایک ہزار روپے جو اس زمانے کے حساب سے ایک بہت بڑی رقم تھی ، لینے ہیں یا معافی منگوانی ہے۔میں گھر پہنچا ہی تھا کہ نظارت امور عامہ کا بلاوا آ گیا کہ فور دفتر آئیں تا کہ بعد از تنفیذ حضور کی خدمت میں رپورٹ بھجوائی جاسکے۔امور عامہ کے حکم کی تعمیل میں دفتر پہنچا۔کانپتے ہاتھوں سے رقم پکڑی۔دو دن نہایت اضطراب میں گزرے کہ ہمارے چھوٹے سے معاملے کی وجہ سے حضور کو کس قدر کوفت اٹھانی پڑی حضور کا کتنا قیمتی وقت ضائع ہوا۔اور اس احمدی دوست کو بھی (چاہے اپنی نادانی کی وجہ سے ہی ) کتنی تکلیف اٹھانی پڑی۔وقت گزرنے کے ساتھ میری پریشانی اور اضطراب بڑھتا گیا۔آخر مجھ سے رہا نہ گیا۔حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔قارئین محترم! میں آپ کو اپنے دل کی بات بتاتا ہوں۔جب بھی کبھی میں دنیاوی مسائل سے پریشان ہوتا تو حضور کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر دعا کے لئے عرض کرتا۔شرف زیارت حاصل کر لیتا اور میری تمام پریشانیاں کا فور ہو جاتیں۔چنانچہ میں نے حاضر ہو کر حضور کا شکریہ ادا کیا کہ ہمارے معمولی سے معاملے میں حضور نے اپنا قیمتی وقت عطا کر کے غریب احمدی کو انصاف دلایا۔پھر ڈرتے ڈرتے عرض کی 52 52 حضور کے ارشاد کی تعمیل میں میں نے ایک ہزار روپے وصول کر لئے ہیں۔اب اگر حضور اجازت مرحمت فرما ئیں تو میں یہ رقم متعلقہ احمدی دوست کو واپس کر دوں۔حضور نے میری دلداری کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کا نقصان ہوا ہے آپ رقم رکھیں۔میں نے پھر عرض کیا کہ اگر حضور مجھے دلی طور پر اجازت عطا فرما دیں تو یہ بات میرے لئے باعث سکینت ہوگی۔حضور مسکرائے اور فرمایا اچھا اپنا نقصان رکھ لو اور زائد رقم واپس کر دو۔میں نے ہمت کر کے تیسری بار جسارت کی اور عرض کیا کہ حضور میر انقصان اور ہر جانہ تو اسی دن ادا ہو گیا تھا جس دن حضور نے باوجود لامتناہی مصروفیات کے غیر معمولی شفقت محبت اور انصاف کا اعلیٰ مظاہرہ فرماتے ہوئے خاکسار کے عزیز کے حق میں فیصلہ صادر فرمایا تھا۔بالآخر حضور نے از راہ شفقت بخوشی اجازت عنایت فرما دی اور فرمایا کہ رقم واپس دے آؤ لیکن واپسی پر مجھے ان صاحب کے رد عمل کی رپورٹ دے کر جانا۔یہ واقعہ رات سات بجے کا تھا۔سردیوں کے دن تھے۔جو نہی حضور نے اجازت عطا فرمائی میرا بوجھ ہلکا ہو گیا۔اسی وقت ایک دوست مکرم خواجہ مجید احمد صاحب کو ساتھ لے کر سیدھا ان کے گھر دارالرحمت میں حاضر ہوا۔اطلاع دی۔انہوں نے اندر بلایا۔میں نے معذرت کے ساتھ رقم واپس کر دی۔انہوں نے بغیر کسی رد عمل کے رقم لے لی۔چند منٹوں میں ہم واپس آگئے۔مجھے پریشانی سے نجات ملی۔حسب ارشاد واپسی پر رات آٹھ بجے کے قریب رپورٹ حضور کی خدمت میں عرض کر دی۔اصول پرستی و تعلق پروری سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی ان گنت خوبیوں میں سے ایک نمایاں خوبی یہ بھی تھی کہ آپ انتہائی تعلق پرور شخصیت تھے۔جماعت سے آپ کی محبت تو کسی تعارف کی محتاج نہیں۔حضور کا یہ عظیم ارشاد تھا کہ جماعت اور خلیفہ ایک وجود کے دونام