یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 25 of 137

یادوں کے نقوش — Page 25

23 23 آف کالا باغ نے پوچھا آپ کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے۔انہوں نے کہا کہ میں ایم این اے خدا کے فضل کے بعد جماعت احمدیہ کے تعاون سے بنا ہوں۔میرا فرض ہے کہ ان کے جائز حقوق کی پاسداری کروں اور ان کی ہر ممکن حمایت کروں۔نواب آف کالا باغ کو بھروانہ صاحب کی طرف سے حکومتی پالیسی کے برعکس یہ جرات اور مداخلت ایک آنکھ نہ بھائی۔چنانچہ اس کے بعد جب انتخابات کا وقت آیا تو گورنر نے بھروانہ صاحب کو ٹکٹ سے محروم کر دیا۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ان تمام حالات سے باخبر تھے اور آپ نے بھروانہ صاحب کی وفا کا جواب بھر پور وفا سے دینے کا عزم کر رکھا تھا۔آپ نے فرمایا کہ بھروانہ صاحب کو ہماری حمایت کی سزا دی گئی ہے۔قارئین کرام ! یہ بات کسی معجزہ سے کم نہیں ہے کہ جماعت احمدیہ کی تائید و حمایت کرنے کے بعد بھروانہ صاحب جہاں سے اور جس حلقہ سے بھی انتخاب میں کھڑے ہوئے خدا تعالیٰ کے خاص فضل اور حضرت خلیفۃ الثالث کی دعاؤں کے طفیل اور جماعتی تعاون کے باعث ہر دفعہ کامیاب و کامران ہوئے ایک بھی الیکشن میں شکست نہیں کھائی۔حتی کہ 1970ء میں ان کا مقابلہ ایک ملکی سطح کے نامور سیاستدان سابق وزیر محترم کرنل سید عابد حسین سے تھا اور یہ الیکشن بھروانہ صاحب نے غیر معمولی ووٹوں کی برتری کے ساتھ جیتا۔یہ اعتماد اور وفا کا تعلق جانبین نے خوب نبھایا۔حضرت میاں صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت خوبصورت اور دلکش دل عطا فرمایا تھا جو اپنے کارکنوں اور خادموں کی محبت اور دلداری سے لبریز رہتا تھا۔ایک واقعہ پیش ہے۔بات کتنی معمولی ہے اور محبت کا بے ساختہ اظہار کتنا دل نشیں ہے۔1964ء کی بات ہے خاکسار میاں صاحب کے کسی ارشاد کی تعمیل میں ربوہ سے باہر گیا ہوا تھا۔شام کو واپسی ہوئی تعلیم الاسلام کالج میں جہاں حضورمسند خلافت پر فائز “ 24 ہونے سے پہلے بطور پرنسپل مقیم ہوتے تھے، ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔کوٹھی میں غالباً کوئی جماعتی اجلاس ہورہا تھا۔جماعت کے بڑے بڑے بزرگ عہدے داران تشریف فرما تھے۔(حضرت صاحبزادہ صاحب نے جو اُن دنوں میاں ناصر احمد کہلاتے تھے ) جالی میں سے مجھے دیکھ لیا اور فرمانے لگے۔ناصر اندر آجاؤ۔خاکسار حسب ارشاد اندر حاضر ہو گیا۔اس اثناء میں گھر سے چائے آگئی۔حضور فرمانے لگے ناصر چائے بناؤ۔خاکسار نے چینی ڈالنے کے لئے ابھی چہ اٹھایا ہی تھا کہ حاضرین میں سے ایک صاحب نے فوراً میرے ہاتھ سے پیچ لے لیا اور خود چائے بنانا چاہی حضرت میاں صاحب نے جو یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔فوراً فرمایا اچھا یہ صاحب اپنی چائے خود بنالیں اور میری چائے ناصر بنائے گا۔حضرت میاں صاحب کے ان الفاظ پر ان صاحب نے فوراً پیچ مجھے واپس تھما دی۔ساتھ ہی حضرت میاں صاحب فرمانے لگے آپ جانتے ہیں، میری طرف اشارہ کر کے ) یہ کون ہیں؟ بعض بزرگ جانتے تھے انہوں نے میرا نام بتایا۔حضرت میاں صاحب فرمانے لگے اس کا تعارف میں کرواتا ہوں۔فرمانے لگے یہ وہ مخلص نوجوان ہے جس کی رپورٹ صحت کے لحاظ سے معیاری ہوتی ہے۔ان تعریفی کلمات کے بعد خاکسار نے یہ عہد باندھ لیا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے اس حسن ظن کو تاحیات نبھاؤں گا۔چنانچہ حضور کی وفات ( جون 1982ء) تک مجھے جو بھی ذمہ داری سونپی گئی اسے اپنے اس عہد کے مطابق نبھانے روزنامه الفضل 30 اگست 2001ء) کی کوشش کرتا رہا۔1964 ء۔احمد نگر میں آمد حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی خواہش تھی کہ احمد نگر کی جماعت فعال منتظم، متحد اور روحانی و سماجی لحاظ سے ممتاز اور منفرد ہو کیونکہ یہ ربوہ کا صدر دروازہ