یادوں کے نقوش — Page 123
“ 213 ولد فتح محمد خان صاحب ابن مکرم میاں اللہ بخش خان صاحب بز دار رفیق حضرت مسیح موعود سے 1940 ء میں ہوئی۔برادرم نور محمد خان صاحب انتہائی شگفتہ مزاج باغ و بہار شخصیت کے مالک اور بہادر انسان تھے نور محمد خان صاحب کا خاندان اور بستی بزدار کے اہلیان بلا امتیاز عقیدہ وذات پات باہم شیر و شکر ر ہے۔دونوں میاں بیوی بطور استاد نہایت فرض شناس تھے جس جس سکول میں تعینات ہوئے نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ طلباء اور طالبات کو قرآن پاک پڑھانا تو اپنا فرض اولین سمجھتے رہے۔بطور استاد شاگردوں سے محبت، شفقت سے پیش آتے۔بچوں سے حسن سلوک اور محنت سے پڑھانے کے باعث متعلقہ گاؤں کے مردوزن آپ کی بے پناہ عزت واحترام کرتے تھے اور ہر دو کو کبھی بھی تنگ نظری یا تعصب کا سامنانہ کرنا پڑا۔خدمت قرآن گاؤں بستی بزدار کی آبادی تقریباً 25 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔یہاں کے تمام رہائشی اس احمدی میاں بیوی کے شاگرد ہیں۔اور جملہ غیر از جماعت خواتین کو ہمشیرہ نے قرآن پڑھانے کی سعادت پائی جن کی تعداد ہزاروں میں ہے۔بستی بزدار بزدار قبیلہ کا مسکن ہے حضرت اللہ بخش خان صاحب بزدار رفیق حضرت مسیح موعود کا بھی یہ مسکن تھا۔آپ اپنی برادری میں زہد و تقویٰ کے باعث ممتاز مقام رکھتے تھے۔بز دار قوم انتہائی بہادر، سچے مومن، اعلیٰ ظرف ، مہمان نواز اور مثبت سوچ کی حامل ہے۔“ 214 ہمارے دادا جان حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب رفیق حضرت مسیح موعود نے ہماری بہن غلام سکینہ صاحبہ کے بارہ میں کہا تھا کہ میری اس پوتی کو قرآن پاک سے بے انتہاء عشق ورغبت ہوگی۔بی بی غلام سکینہ کے بیٹے عزیزم محمود احمد ایاز بزدار بتاتے ہیں کہ بستی بزدار کم و بیش پچیس ہزار نفوس پر مشتمل ہے یہاں کی آبادی جو والد صاحب اور والدہ صاحبہ کی شاگر د ہے یہ محض اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور حضرت مسیح موعود کے عشق قرآن کا فیض ہے۔شوہر کی وفات 1965ء میں آپ کے شو ہر مکرم نورمحمد خان صاحب بقضاء الہی وفات پاگئے یہ صدمہ جہاں ضعیف و نحیف والدین کے لئے ناقابل برداشت تھا وہاں ہماری مخلص بہن کے لئے دوہرے صدمہ کے مترادف تھا۔بیک وقت بزرگ ترین (سرال) ماموں جان ممانی جان کی خدمت کے علاوہ معصوم اولاد کی تعلیم و تربیت کی بھاری ذمہ داریاں ہماری ہمشیرہ کے نحیف کندھوں پر آن پڑیں۔ہماری صابرہ شاکرہ باہمت بہن نے بزرگ سسرال کی جو غیر معمولی خدمت کی سعادت پائی وہ اپنی مثال آپ ہے۔سب سے چھوٹا بچہ 6 ماہ کا تھا اور بڑا بیٹا ساتویں جماعت میں زیر تعلیم تھا۔اپنے سسر کی خدمت مکرم حاجی فتح محمد خان صاحب جو غیر معمولی ضعیف اور صاحب فراش تھے جن کی صحت دن بدن گرتی جا رہی تھی طویل بیماری کے علاوہ جواں سال اکلوتے بیٹے کی وفات کے غم نے تو نڈھال کر رکھا تھا خود اٹھنا بیٹھنا بھی ناممکن ہوتا جارہا تھا۔جاں نثار بہو نے اپنا آرام اپنے بزرگ سسرال کی خدمت کیلئے قربان