یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 99 of 137

یادوں کے نقوش — Page 99

“ 165 دیگر غیر از جماعت دوست و معززین بھی محترم حکیم صاحب کی بوقت تدفین حاضر رہے اور بعد از تدفین بھی مولوی صاحب کی تعزیت کیلئے گھر تشریف لاتے رہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولوی صاحب کے درجات بلند فرمائے۔آمین حکیم صاحب کی وفات کے بعد ایک غیر از جماعت دوست سرکاری افسر نے حضور کی خدمت میں تعزیتی خط لکھا۔جس کے جواب میں مورخہ 18 راگست 1994ء کو حضور نے فرمایا۔مکرم حکیم خورشید احمد صاحب کی وفات پر آپ کی طرف سے دلی تعزیت کا خط ملا۔جزاکم الله تعالى احسن الجزاء۔واقعی مرحوم بہت ہمدرد، نیک دل، نافع النفس وجود تھے۔انا للہ و انا اليه راجعون۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے آپ نے جن نیک جذبات کا اظہار کیا ہے وہ یقیناً قابل قدر ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے غیر معمولی فضلوں سے نوازے۔“ محترم حکیم صاحب کی وفات پر حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ناظر اعلیٰ وامیر مقامی نے بہت غم اور دکھ کا اظہار کیا۔محترم حکیم صاحب کی وفات سے اگلی صبح جب خاکسار ( راقم الحروف ) دفتر صدر عمومی میں موجود تھا تو حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف کا ڈرائیور آیا اور کہا کہ آپ کو فوری طور پر حضرت میاں صاحب نے بلایا ہے اور مجھے آپ کو لینے کیلئے بھیجا ہے۔خاکسار اس کے ساتھ حضرت میاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔خاکسار کو دیکھتے ہی حضرت میاں صاحب نے فرمایا محترم مولوی صاحب کی وفات کا غیر معمولی دکھ اور صدمہ ہوا ہے۔اس کے بعد آپ نے مندرجہ ذیل ہدایات سے نوازا۔(1) دفتر لوکل انجمن احمد یہ کھلا رہنا چاہئے جہاں ڈیوٹی پر ذمہ دار افراد موجود ہوں۔(2) محترم حکیم صاحب کے گھر میری طرف سے ہمدردی اور افسوس کا اظہار “ 166 کریں۔(3) تعزیت کے سلسلہ میں آنے جانے والے افراد کیلئے پانی، شامیانے اور کرسیوں وغیرہ کا انتظام کرا دیں۔(4) گھر والوں اور باہر سے آنے والوں کے کھانے کا انتظام دارالضیافت سے کرائیں۔حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے احمد یہ ٹیلی ویژن کے پروگرام ملاقات میں مورخہ 16 راگست 1994ء میں فرمایا اور آپ کو حضرت مولوی خورشید احمد صاحب“ کہہ کر اپنے قلبی جذبات سے اور اس قدرومنزلت سے احباب کو مطلع کیا جو آپ ایک خادم سلسلہ حضرت مولوی حکیم خورشید احمد صاحب کیلئے اپنے قلب صافی میں رکھتے تھے۔حضور نے فرمایا۔”مولوی صاحب نے جماعت کی بہت خدمت کی ہے۔وہ بہت گہرے عالم تھے۔حدیث کا ٹھوس علم حاصل تھا۔جامعہ میں میرے استاد بھی رہے۔بہت ہی گہرا علم اور وسیع نظر تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے آپ کو دیو بند بھیج کر حدیث کا علم دلوایا۔دوسری خوبی ان کی یہ تھی کہ بڑی انتظامی صلاحیت کے مالک تھے۔جب بڑے مشکل اوقات میں جماعت کے خلاف شدید دشمنی کا اظہار کیا گیا۔ایسے مشکل مواقع پر ربوہ کے عوام کی سر پرستی کرنے میں حضرت مولوی صاحب کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں شفاء دی تھی۔بہت سے ایسے مریض جو حکومت کے ملازم ہوتے تھے یا علاقے کے بڑے زمیندار جن سے عموماً شر پہنچتا تھا وہ مولوی صاحب کی مخالفت نہیں کرتے تھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی حکمت اور طبابت کے نسخے بہت مفید ہوتے تھے۔چنیوٹ سے بھی سلسلے کے مخالف یا تو بھیس بدل کر دوا لینے آتے یا کسی کو بھجوا دیتے اور درخواست کرتے کہ ہمارا نام نہ لیا جائے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ مقدمات میں پڑ کر اور سنگین صورت حالات