یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 80 of 137

یادوں کے نقوش — Page 80

“ 129 “ 130 غیر معمولی ذہین اور محنتی تھے۔تھوڑے ہی عرصہ میں خورشید یونانی دواخانہ کامیاب دواخانوں میں شمار ہونے لگا۔اس کی ابتداء بہت معمولی تھی ، پہلے پہل دوا فروشی سے کام کا آغاز کیا اور پھر چند سالوں میں مریضوں کا چیک اپ اور امراض کی تشخیص میں آپ نے اپنا منفرد مقام بنا لیا۔دور دراز سے مریض آپ سے ادویات لینے بڑی تعداد میں ربوہ آتے اور آپ کی آمد سے پہلے ہی دکان کے باہر منتظر ہوتے تھے اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ مریضوں کو گھنٹوں انتظار کے بعد محترم حکیم صاحب کو دکھانا نصیب ہوتا اور آہستہ آہستہ آپ کے مریضوں کی لائن میں بڑے بڑے افسران اور زمیندار بھی شامل ہوتے گئے۔ایک دفعہ چنیوٹ کا ایک بڑا افسر آپ کے پاس حاضر ہوا اس نے کہا میں اعصابی کمزوری کا شکار ہوں بہت علاج کرایا افاقہ نہیں ہوتا ، آپ نے پوچھا شادی شدہ ہیں؟ اس نے اثبات میں سر ہلایا تو محترم حکیم صاحب نے دوائی مرحمت فرما دی۔چند دن کے بعد وہی افسر دوبارہ ربوہ آیا اور حکیم صاحب کو بتایا کہ وہ اب بالکل ٹھیک اور تندرست ہے اور اس نے حکیم صاحب کا شکریہ ادا کیا۔اس کے بعد مذکورہ افسر نے ایسی دوائی طلب کی جس کا نام سنتے ہی محترم حکیم صاحب انتہائی غصے میں آگئے اور اس افیسر پر برس پڑے کہ آپ مجھے بازاری حکیم سمجھتے ہیں اس قسم کی دوائی کی مجھ سے قطعاً توقع نہ رکھیں۔محترم حکیم صاحب اپنا مطلب بازاری حکیموں کی طرح نہیں چلاتے تھے بلکہ ما ہر حکیم ہونے کے ساتھ ساتھ جرات مند، معاما فہیم اور صاحب حکمت بھی تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے محترم حکیم صاحب کی وفات کے ذکر خیر میں ان کے دست شفاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں شفاء دی تھی۔بہت سے ایسے مریض جو حکومت کے ملازم ہوتے تھے یا علاقے کے بڑے زمیندار جن سے عموماً شر پہنچتا تھا وہ مولوی صاحب کی مخالفت نہیں کرتے تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی حکمت اور طبابت کے نسخے بہت مفید ہوتے تھے۔چنیوٹ سے بھی سلسلے کے مخالف یا تو بھیس بدل کر دوا لینے آتے یا کسی کو بھجوا دیتے اور درخواست کرتے کہ ہمارا نام نہ لیا جائے۔“ (روز نامه الفضل 18 اگست 1994ء) آپ اپنے مطلب سے جماعت کے بزرگوں، پولیس افسران اور سول افسران کو گرمیوں میں خصوصاً شربت بادام اور دیگر شر بتوں کے علاوہ قیمتی دیسی ادویات بھی بلا معاوضہ دے کر غیر معمولی فیض عام کا سلسلہ جاری رکھتے۔ازدواجی زندگی مکرم حکیم خورشید احمد صاحب کو حضرت مولانا ابوالعطا ء صاحب جالندھری کی دامادی اور شاگردی کا شرف حاصل تھا۔مکر مہ امتہ اللہ خورشید صاحبہ سابق مدیرہ ماہنامہ مصباح مولانا ابوالعطاء صاحب کی صاحبزادی تھیں اور محترم حکیم صاحب کی نیک بخت زوجہ تھیں اس طرح ان تینوں کا نام حصہ بقدر جثہ تاریخ احمدیت میں زندہ و تابندہ رہے گا۔(انشاء اللہ تعالی ) ان کی وفات مورخہ 26 ستمبر 1960 ءسوا دس بجے شب ہوئی۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے اپنی پیاری بچی کی وفات پر ماہنامہ الفرقان ربوه اکتوبر 1960ء میں دو صفحات کا نوٹ لکھا جس میں انہوں نے اپنی بیٹی کے اوصاف حمیدہ اور خدمت دین کا تذکرہ فرمایا۔آپ نے لکھا۔”میری بچی عزیزہ امتہ اللہ بیگم میری سب سے بڑی لڑکی تھی۔میرے ماموں حضرت ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب آف سر وعہ کی نواسی تھی۔میں ابھی مدرسہ احمدیہ قادیان کی ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا کہ اس کی ولادت ہوئی۔میں نے اس خوشی میں اپنے ساتھی طلبہ کو ایک پارٹی دی تھی۔عزیزہ امتہ اللہ ایک ہونہار سعادت مند اور نہایت نیک بیٹی تھی۔وہ ابھی