یادوں کے نقوش — Page 79
127 فرمایا کہ مکرم سید زمان شاه صاحب سابق امیر جماعت احمدیہ جہلم سے۔مزید فرمایا کہ سید زمان شاہ صاحب سے قبل مکرم چوہدری فرزند علی صاحب صدر عمومی تھے جنہوں نے مکرم ماسٹر عبداللہ صاحب سے چارج لیا تھا۔پھر آپ نے فرمایا کہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے بھی کچھ عرصہ بحیثیت صدر عمومی خدمات سرانجام دی تھیں۔لیکن ان کے عرصہ خدمت کا صحیح علم نہ ہے۔“ محترم حکیم صاحب کی وفات کے بعد محترم کرنل (ر) ایاز محمود خان صاحب اور ان کے بعد محترم میجر (ر) شاہد احمد سعدی صاحب اور ان کے بعد 2003 ء تا فروری 2012ء محترم چوہدری اللہ بخش صادق صاحب اور اب مکرم آصف جاوید چیمہ صاحب یہ خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔ابتدائی حالات محترم حکیم خورشید احمد صاحب مورخہ 25 نومبر 1921ء کو مکرم شیخ کریم اللہ صاحب کے ہاں سکنہ پیل ضلع پسنی ریاست پٹیالہ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد پٹواری تھے اپنی دیانتداری، نیکی اور شرافت کے باعث اپنے علاقہ میں مشہور اور معروف تھے۔آپ کے والد محترم نے آپ کو تعلیم و تربیت کی خاطر جامعہ احمدیہ قادیان میں داخل کرایا جہاں آپ نے بہت محنت اور لگن سے دینی تعلیم حاصل کی۔آپ انتہائی ذہین ، قابل اور محنتی تھے۔دوران طالب علمی مقابلہ جات میں پوزیشنز حاصل کیا کرتے تھے۔سال 1943ء میں جامعہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کے امتحان میں بفضل اللہ تعالیٰ اول پوزیشن حاصل کی۔جس کی وجہ سے گولڈ میڈل کے حقدار ٹھہرے۔یہ آپ کے نہایت قوی حافظے اور غیر معمولی محنت کی دلیل تھی۔“ 128 24 دسمبر 1944 ء بوقت ساڑھے آٹھ بجے شب بیت اقصیٰ قادیان میں طلباء جامعہ احمدیہ کے مابین عربی تقریر کا انعامی مقابلہ زیر صدارت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری منعقد ہوا۔انعام پانے والوں کا فیصلہ کرنے کیلئے تین حج (1) مکرم مولوی محمد سلیم صاحب (2) مکرم مولوی ظہور حسین صاحب (3) محترم مولانا ظفر محمد ظفر صاحب ( راقم کے والد ) مقرر ہوئے۔عربی تقریری مقابلے کا عنوان ” الاسلام دین الفطرة‘ مقرر ہوا تھا۔آٹھ طلباء اس مقابلہ میں شامل ہوئے۔بعد از تقاریر جج صاحبان با ہمی مشورہ کیلئے علیحدہ ہوئے جس پر 15-20 منٹ صرف ہوئے اس عرصہ میں صدر مجلس نے عربی زبان سیکھنے کے متعلق عربی میں تقریر کی۔حجز کے فیصلہ کے مطابق مندرجہ ذیل طلباء نے پوزیشنز حاصل کیں۔1 محترم مولانا دوست محمد شاہد صاحب 2 محترم مولوی خورشید احمد شاد صاحب اول دوم 3 محترم مولوی جلال الدین صاحب اور مکرم عطاء الرحمن طاہر صاحب سوم (بحوالہ روزنامہ الفضل یکم جنوری 1945ء) طبابت کا پیشہ ایں سعادت بزور بازو نیست ذاتی لگن ، محنت اور غیر معمولی ذہانت کے باعث آپ نے جس کام کو بھی شروع کیا اس میں کامیابی حاصل کی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو دست شفاء عطا فرمایا تھا۔آپ نے ایک دواخانہ کی بنیاد ڈالی اور خورشید یونانی دواخانہ کے نام سے کاروبار کا آغاز کیا۔طب کی تعلیم آپ نے اپنے ذاتی شوق اور مطالعہ سے حاصل کی آپ چونکہ