یادوں کے نقوش — Page 77
“ 123 حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ اور حضرت سر محمد ظفر اللہ خان صاحب تھے۔آپ نہ صرف تشریف لاتے بلکہ اہالیان احمد نگر کو اپنے خطاب سے بھی نوازتے۔خاکسار کے والد محترم کے ساتھ آپ کے انتہائی مخلصانہ روابط تھے۔علم دوستی کے ساتھ بے تکلفی کا انداز بھی تھا۔ایک دفعہ فرمایا۔مولوی ظفر صاحب ! آپ بہت اچھی نظمیں کہتے ہیں۔خصوصاً آپ کی حضرت خاتم الانبیاء کے بارہ میں یہ نظم لا كـذب انت النبی تولا جواب ہے۔امید ہے یہ نظم آپ کی بخشش کے لئے آپ کی شفاعت کا کام کرے گی۔انشاء اللہ والد صاحب نے آپ کی قابلیت ، تقریر، اور تحریر کو بے حد سراہا۔ہنستے ہنستے دونوں بزرگوں میں یہ طے ہوا کہ اگر خاکسار کے والد صاحب پہلے فوت ہو گئے تو حضرت مولوی صاحب والد صاحب کے بارہ میں رسالہ الفرقان میں مضمون لکھیں گے اور اگر استاذی المحترم پہلے فوت ہوئے تو خاکسار کے والد صاحب ان کے بارہ میں نظم لکھیں گے۔حضرت مولوی صاحب پہلے مولی حقیقی سے جاملے۔جس پر میرے والد صاحب نے جو نظم لکھی اس کے چند اشعار بغرض اظہار عقیدت و دعا پیش خدمت ہیں۔چھوڑ کر دنیا کو خالد جا بسا ہے خُلد میں اب چلائے حجت بُرہان کی شمشیر کون , کو کون دے گا دشمنان دیں اب مسکت جواب مجالس میں کرے گا دلر با تقریر کون ہمارے بو العطاء تجھ پر ہزاروں رحمتیں ترے منہ سے سُنے قرآن کی تفسیر کون (روز نامہ الفضل 30 جولائی 2002ء) “ 124