یادوں کے نقوش — Page 67
105 نے علمی نکات سے لطف اندوز ہوا۔تحقیق کی کئی نئی راہوں کی طرف توجہ مبذول ہوئی اور دل میں اس خیال سے شکر و امتنان کے جذبات پیدا ہوئے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود کی دعاؤں کو آپ کے غلاموں کے حق میں مقبول فرمارہا ہے۔اور علم ومعرفت میں ترقی کے نئے نئے دروازے ان پر کھول رہا ہے۔الحمد للہ ثم الحمد للہ یہ کتاب چونکہ گہری اور بار یک مضامین پر مشتمل ہے۔نیز ایسے پہلو بھی رکھتی ہے جن میں مزید تحقیق اور اختلاف رائے کی گنجائش ہے۔لہذا اس کی اشاعت سے صرف علمی ذوق در موز رکھنے والا محدود طبقہ ہی استفادہ کر سکے گا۔بنابریں اگر اس کی اشاعت مقصود ہو تو سر دست محدود اشاعت بہتر رہے گی۔تجزیہ کی روشنی میں آئندہ وسیع تر اشاعت کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو بیش از پیش خدمت دین کی توفیق بخشے اور علم و عرفان کی لازوال دولت عطا فرمائے۔آمین ( بحوالہ معجزات القرآن صفحه 9,10) حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ فیصل آباد نے تحریر فرمایا:۔محترم مولوی ظفر محمد صاحب نے ایک بہت دقیق رسالہ تصنیف کیا ہے جس میں قرآنی علوم کو ابجد کے لحاظ سے نئے پیرائے میں بیان کیا ہے اور بہت سے نکات اس میں بیان کئے ہیں یہ رسالہ بہت بار یک مضامین پر مشتمل ہے اور اہل ذوق اس سے مستفیض ہو سکتے ہیں۔محترم مولوی صاحب نے بڑی محنت اور دقیقہ رسی سے کام لیا ہے۔بعض جگہ قاری کو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن بہت کم موقعوں پر ایسا ہوسکتا ہے ورنہ رسالہ مفید اور جدید تحقیق پر مبنی ہے۔(بحوالہ معجزات القرآن صفحہ 13 ) رشتہ ناطہ میں صاف گوئی 1932ء میں خاکسار کے والد محترم نے محلہ دارالفضل میں اپنی تعلیم کے “ 106 سلسلہ میں کمرہ کرایہ پر لے رکھا تھا۔یہ کمرہ مکرم ومحترم حضرت ڈاکٹر ظفر حسن صاحب رفیق بانی سلسلہ کی ہمسائیگی میں واقع تھا۔میرے والد محترم کی سادگی ،شرافت اور نیک شہرت سے متاثر ہو کر ایک روز حضرت ڈاکٹر صاحب نے اپنے اہل خانہ کے مشورہ سے انہیں اپنے گھر چائے پر بلایا۔ابتدائی تعارف میں محترم والد صاحب نے ڈیرہ غازی خان اپنا آبائی وطن بتایا۔ذریعہ معاش کے استفسار پر آپ نے فرمایا:۔زرعی زمین ذریعہ معاش ہے لیکن رقبہ چونکہ بارانی ہے اگر بارش ہو جائے تو گز راوقات ہو جاتا ہے“۔آپ کی اس صاف گوئی اور جامعہ احمدیہ میں تعلیم کے باعث بغیر کسی مزید تحقیق کے مکرم و محترم حضرت ڈاکٹر صاحب نے اپنی دختر نیک اختر محترمہ رشیدہ بیگم صاحبہ کا رشتہ محترم والد صاحب کے ساتھ طے کر دیا۔جو زندگی بھر مثالی رفاقت سے گزرا۔واپسی قرضہ کی عمدہ مثال حتی الامکان والد محترم کی ہر ممکن کوشش ہوتی کہ اپنی آمد میں ہی گزراوقات کی جاوے۔اگر کبھی اشد مجبوری کے باعث قرض لینا ناگزیر ہو جاتا تو پھر وعدہ کے مطابق قرض کی واپسی کو یقینی بناتے۔ایک دفعہ والد محترم نے انتہائی ضرورت کے پیش نظر اپنے ایک مخلص دوست محترم مولانا محمد سلیم صاحب مربی سلسلہ سے جو غالباً اس وقت کلکتہ میں خدمات سرانجام دے رہے تھے اور ان دنوں قادیان تشریف لائے ہوئے تھے، مبلغ 20 روپے قرض حسنہ لئے۔واپسی کی تاریخ سے قبل ہی والد صاحب خاکسار کو ہمراہ لئے مکرم و محترم مربی صاحب کے گھر گئے۔والد صاحب نے مبلغ 22 روپے لفافہ میں بند کئے جو قرض سے 2 روپے زائد تھے۔اس طرح قرض خواہوں کے لئے نیک مثال چھوڑی۔